تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 مقدس مقامات


وادی السلام

پرنٹ
دنیا کا سب سے بڑا قبرستان

قبرستان وادی السلام :

وادی السلام کا قبرستان دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے اور تاریخی لحاظ سے بہت قدیمی ہے ، یہ قبرستان ’’ ثویہ ‘‘ نامی علاقہ سے نزدیک ہے اور صدر اسلام میں کوفہ کا سب سے بڑا قبرستان تھا اصحاب رسول و امیر المومنین کافی تعداد میں یہاں پر دفن ہیں ان میں سے صرف کمیل کی قبر باقی ہے۔

وادی السلام کی فضیلت میں بہت ساری روایات نقل ہیں منجملہ امیر المومنین سے منقول ہے کہ دنیا کے کسی خطہ میں کوئی مومن جب مرتا ہے تو اس کی روح سے کہا جاتا ہے کہ وادی السلام سے ملحق ہو جاؤ کیوں کہ وہ حصہ بہشت عدن کا ٹکڑا ہے ۔[1]

نیز مروان بن مسلم سے منقول ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام عرض کی میرے بھائی بغداد میں رہتے ہیں خوف اس بات کا ہے کہ کہیں ان کو موت نہ آجائے ، امام نے فرمایا: ’’ما تبالی حیثما مات  اما انہ لا یبقی مومن فی شرق الارض و غربھا الا حشر اللہ روحہ الی وادی السلام ‘‘اس کی فکر نہ کرو کہ کہاں موت آئے گی مشرق و مغرب میں کوئی مومن نہیں مرتا مگر یہ کہ خدا اس کی روح کو وادی السلام میں بھیجتا ہے۔ راوی نے پوچھا : وادی السلام کہاں ہے ؟ امام نے فرمایا:’’ ظھر الکوفہ اما  انی کانی بھم حلق قعود یتحدثون ‘‘یعنی پشت کوفہ ، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگ گروہ گروہ باہم بیٹھ کر گفتگو کر رہے ہیں ۔ [2]

اہل سنت کے مورخ ابن عساکر نے بھی اپنی سند سے امام صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی کہ آپ نجف آئے اور فرمایا: وادی السلام مومنین کی روحوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہ کتنی اچھی خاک ہےپھر  مومنوں کے لئے دعا کی ، خدایا میری قبر کو یہیں قرار دے۔[3]

ان روایات کے پیش نظر بہت ساری شیعہ شخصیات وصیت کرتی ہیں کہ ان کے جنازے کو نجف منتقل کردیں اور قبرستان وادی السلام میں دفن کریں اس قبرستان میں شیعوں کی تدفین کا آج بھی سلسلہ جاری ہے ، تبدیلیٔ زمان کے ساتھ اس میں وسعت ہوئی اور آج دنیا کا عظیم قبرستان ہے ۔

آخری دنوں کے مشہور شیعہ علماء جو یہاں دفن ہیں وہ حسب ذیل ہیں :سید علی آقا قاضی (م ۱۳۶۶ہجری ) رئیس علی دلواری ، سید ابو تراب خوانساری (م ۱۳۴۶ہجری )شیخ شعبان گیلانی( م ۱۳۴۸ ہجری) و سید جمال الدین افجہ ای۔

 

[1]  الکافی، ج 3، ص 243 (ط تهران).

[2]  الکافی، ج 3، ص 243 (ط تهران)؛ تهذیب الاحکام، ج 1، ص 466.

[3]  تاریخ مدینة دمشق، ج 1، ص 213.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

پرنٹ

ٹیگز وادی، السسلام ، قبرستان

تبصرے


تبصرہ بھیجیں


Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات