تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 مقدس مقامات


سامرا اور امامین عسکریین کا روضہ

پرنٹ
روضہ مقدس کے مختصر تاریخ

سامرا آستانہ مقدس :

 آستانہ امامین عسکریین سے پہچانا جاتا ہے ، شیعوں کی اہم زیارتگاہ میں سے ایک ہے اور یہ شہر عراق میں شیعوں کے چار مقدس شہروں میں سے ایک ہے ۔

آستانہ سامرا کا بنیادی مرکز دسویں امام کا گھر ہے جب متوکل عباسی نے آپ کو طلب کیا تھا تو آپ نے دلیل بن یعقوب نصرانی سے اپنے لئے یہ گھر خریدا تھا [1]۔ یہ گھر سامرا کے محلوں میں سے ایک عسکرالمعتصم نام سے تھا اور گیارہویں امام کو اسی محلہ کی نسبت سے عسکری کے لقب سے جانا جاتا ہے[2]۔

 دسویں امام کی شہادت کے بعد آپ کو آپ ہی کے گھر میں دفن کیا گیا ، نیز گیارہویں امام کی شہادت کے بعد آپ کو وہیں سپرد لحد کیا گیا ان دونوں اماموں کے علاوہ اس خاندان کی عظیم شخصیات منجملہ حکیمہ بنت امام محمد تقی علیہ السلام نرجس خاتون ، زوجہ امام حسن عسکری یعنی مادر امام زمان ، جعفر کذاب ابن امام علی نقی بھی یہیں دفن ہیں ۔

لیکن شیخ محمد سماوی نے عربی میں جو نظم لکھی ہے اس میں اس آستانے کی یوں تاریخ بیان کی ہے کہ ۳۳۳ہجری میں ناصر الدولہ ہمدانی نے ان اماموں کی قبر پر گنبد بنوایا اور شہر کے ارد گرد حصار بنوایا[3] پھر ۳۳۷ہجری میں معز الدولہ دیلمی نے ناصر الدولہ کی کامیابی کے بعد سامرا میں شامل ہوا اور اس کے تعمیری کام کو مکمل کیا اس کے بعد اس کے بھائی عضد الدولہ دیلمی نے ۳۶۸ہجری میں بارگاہ پر گنبد بنایا ، تجدید کی اور صحن میں توسیع کی ۔ [4]

لیکن معتبر تاریخوں کے مطابق ارسلان بساسیری (عباسی حکومت کے شیعہ حکام میں سے ایک) نے ۴۵۰ہجری میں ان دو اماموں کی قبر پر عمارت بنائی [5]۔ عبد الجلیل قزوینی رازی نے اپنی کتاب النقض میں سامرا پر گنبد کی تعمیر کی نسبت مسلم بن قریش عقیلی جو کہ موصل و حلب کے حکام میں سے تھے ان کی جانب دی ہے ۔[6]خلیفہ عباسی الناصر لدین اللہ کے زمانے میں جو کہ شیعہ مذہب پر تھا سرداب غیبت امام زمانہ پر ایک لکڑی کا نفیس دروازہ بنایا جو ابھی باقی ہے ۔

مورخین کے بقول بساسیری نے جو عمارت بنائی تھی ۶۴۰ہجری میں آتش سوزی کے سبب جو اس پر نام نقش تھا مٹ گیا لیکن منتصر عباسی کے حکم کے مطابق پہلے ہی کی طرح تجدید ہوئی[7] اور اس خلیفہ کے حکم کے مطابق قبر پر صندوقچہ نصب ہوا ۔[8]

 سماوی کے منظومہ کے مطابق آل جلائر کے دور حکومت میں سلطان حسن جلائیری کے ذریعہ اس کی تجدید ہوئی [9]۔۱۱۰۶ہجری میں بارگاہ مقدس میں آگ لگ گئی جس کے سبب دروازے فرش ، صندوقچہ قبر اور دیگر نفیس اشیا جل گئیں اس کے بعد شاہ سلطان حسین صفوی کے حکم کے مطابق بارگاہ سامرا کی تجدید ہوئی اور ضریح و صندوقچہ ایران میں بنے اور سامرا بھیجے گئے اور اس کے رسم اجرا میں عظیم اہتمام کیا گیا [10]۔

 ۱۲۰۰ہجری میں احمد خان دنبلی حاکم آذربائیجان نے مرزا محمد رفیع بن محمد شفیع مستوفی الممالک کو مامور کیا کہ آستانہ مقدس کی تجدید کریں اور حکم دیا کہ سرداب اور حرم مطہر ، رواق اور ایوان و صحن کو امیر المومنین کے حرم کے مشابہ توسیع دی جائے [11]۔ یہ تعمیرات احمد خان دنبلی کے قتل کے سبب ناتمام رہ گئے لیکن ان کے فرزند حسین قلی خان دنبلی نے ۲۵سال بعد پھر اس کو عملی جامہ پہنایا اور اس کی تجدید کی زائروں کے لئے مہمان سرا ، حمام اور مسجد تعمیر کی حسین قلی خان نے نرجس خاتون اور حکیمہ خاتون کے مزار پر بھی ضریح نصب کی ۔ [12]

قاجار کے عہد خلافت میں شیخ عبد الحسین تہرانی معروف بہ شیخ العراقین امیر کبیر کی وصیت کے مطابق ایک تہائی مال کو حرم کے تمام اخراج یعنی گنبد پر سونے کا رنگ صحن اور ایوان کی تعمیر ، ہرے رنگ کے سنگ مرمر ، دیوار ، رواق اور حرم میں تجدید کی اور یہ اقدامات ۱۲۸۵ ہجری میں مکمل ہوا ۔[13]

مرزا شیرازی کے زمانے میں سامرا میں چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں حرم کے رواق میں آئینہ کاری ہوئی اور صحن میں پتھر لگے اور باب القبلہ پر ایک بڑی گھڑی نصب کی گئی [14]۔۱۳۵۵ ہجری میں کچھ لوگوں نے رات میں حرم پر حملہ کیا اور اس کے سونے کو چرا لے گئے ۱۳۵۶ ہجری میں بھی حرم کے دروازے کو توڑا اور اس کے شمع دان جو کہ خالص چاندی کا تھا اور ہر ایک کا وزن چالیس کیلو تھا چرا لے گئے ۱۳۸۰ ہجری میں حاج علی اصفہانی کہربائی ، کربلا کے معروف تاجر کے ہاتھوں بارگاہ عسکریین کی تجدید کا کام شروع ہوا جس میں سے اہم کام سونے اور چاندی سے بنی ہوئی ضریح کی تعمیر کا ذکر کیا جاتا ہے مذکورہ شخص نے ۱۳۸۷ہجری میں حرم کے دونوں گلدستہ پر ذاتی خرچ سے طلا کاری کروائی اور حرم کے مشرقی و مغربی علاقہ کی خریداری کرکے صحن کی مساحت میں اضافہ کیا ۔ [15]

صدام کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے بارگاہ عسکریین ۶:۴۵ منٹ یا صبح سات بجے چہار شنبہ ۲۳محرم ۱۴۲۷ہجری بمطابق ۲۲فروری ۲۰۰۶عیسوی میں کچھ وہابی دہشتگردوں نے عراقی پلیس کا لباس پہن کر حرم میں داخل ہوئے اور حرم کے محافظوں کے اسلحے کو لے لیا اور حرم کے خادموں سمیت صحن کے ایک کمرے میں ہاتھ پیر باندھ کر بند کردیا اور حرم کو ۲۰۰کیلو وزنی بم دھماکے سے اڑا دیا[16] ۔ اس عظیم حادثہ کے سبب گنبد اور حرم کی عمارت کا کچھ حصہ زمین بوس ہوگیا ۔

ایک سال بعد ۹بجے صبح ۲۷ جمادی الاول ۱۴۲۸ہجری ، بمطابق ۱۳جنوری ۲۰۰۷عیسوی میں دوبارہ دہشتگردوں کا حملہ ہوا اور دونوں طلائی گلدستے اور حرم کے دیگر علاقے سرداب کی چھت زمین بوس ہوگئی ۔[17]

 شیعوں نے ان دونوں بم دھماکوں کی شدید مذمت کی اور چند دنوں تک عمومی عزا کا اعلان رہا اور شیعی حوزات علمیہ اور مراجع تقلید کے دروس تعطیل رہے اس حادثے کے بعد دنیا کے تمام شیعوں نے قیمتی اور نفیس تحائف کے ذریعہ سامرا کے اس مقدس حرم کی تجدید کا اعلان کیا اور مقامات مقدسہ کی تجدیدی کمیٹی اور انجینیرس اور معماروں کی مدد سے اس کا آغاز ہوا اور یہ تجدید اب اپنے آخری مرحلہ میں ہے ۔

 

 

[1] تاريخ بغداد، ج 12، ص 57.

[2]  دائرة المعارف الاسلامية الشيعية، ج 13، ص 138.

[3]  مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 318.

[4]  مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 321 و 324.

[5] الحوادث الجامعة والتجارب النافعة في المائة السابعة، عبدالرزاق بن احمد (ابن الفوطي البغدادي)، ص 79؛ البداية والنهاية، اسماعيل بن کثير الدمشقي (ابن کثير)، ج 13، ص 186.

[6] بعض مثالب النواصب في نقض بعض فضائح الروافض، عبدالجليل رازي قزويني، ص 238.

[7]  الحوادث الجامعة والتجارب النافعة في المائة السابعة، عبدالرزاق بن احمد (ابن الفوطي البغدادي)، ص 79؛ البداية والنهاية، اسماعيل بن کثير الدمشقي (ابن کثير)، ج 13، ص 186.

[8] مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 374.

[9] مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 377.

[10]  مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 374 و 380.

[11] مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 386-387. (به نقل از تحفة العالم، ص 142)

[12]  عتبات عاليات عراق، اصغر قائدان، ص۲۰۲

[13] عتبات عاليات عراق، اصغر قائدان، ص 202.

[14] دائرةالمعارف تشيع، ج 1، ص 94.

[15]  دائرةالمعارف تشيع، ج 1، ص 94.

[16]  تقويم شيعه، عبدالحسين نيشابوري، ص 40.

[17]  تقويم شيعه، عبدالحسين نيشابوري، ص 155-156.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

پرنٹ

ٹیگز سامرا ، امام حسن عسکری اور امام ھادی علیہما السلام

تبصرے


تبصرہ بھیجیں


Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات