تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 مقدس مقامات


کاظمین امام محمد تقی اور امام موسی کاظم علیہما السلام

پرنٹ
کاظمین کی مختصر تاریخ

جس جگہ آج کاظمین کا مقدس آستانہ بنا ہے شروع میں مقابر قریش ( قریش کا قبرستان ) جانا جاتا تھا پہلی بار منصور عباسی نے بغداد کو ۱۴۹ ہجری میں تاسیس کرنے کے بعد اس جگہ کو قبرستان میں تبدیل کیا اس جگہ سب سے پہلے جو دفن ہوا وہ جعفر اکبر منصور کا بیٹا تھا جو کہ ۱۵۰ ہجری میں فوت ہوا[1]۔اس کے بعد ہیثم ابن معاویہ بصرہ کا گورنر جو کہ ۱۵۶ ہجری میں فوت ہوا اس کے بعد اس میں مردے دفنائے جانے لگے[2] ۔

بعض منابع کے تحت یہ قبرستان بنی ہاشم کے قبرستان سے بھی معروف ہے منجملہ شیخ مفید فرماتے ہیں :وہاں بنی ہاشم کا قبرستان تھا اور دیگر بزرگ لوگوں سے منسوب تھا[3]۔ شائد قریش کے لفظ کا انتخاب اس لئے ہو کہ عام طور سے قریشی چاہے بنی عباس ہوں یا دیگر افراد یہاں دفن ہوتے تھے[4]۔ اور بنی ہاشم کے نام سے مشہور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ۔

امام موسی کاظم علیہ السلام ایک ۱۸۳ہجری میں جب زہر دغا سے شہید کئے گئے تو قریش کے قبرستان میں سپرد لحد کئے گئے ، اثباۃ الوصیہ کے مولف کے بقول امام موسی کاظم علیہ السلام نے اس جگہ کو اپنی حیات ہی میں خریدا تھا جہاں آپ دفن ہوئے ہیں[5]۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ امام موسی کاظم ؑ کے سپر لحد ہونے کے بعد آپ کی قبر حصار اور پہرے میں رکھ دی گئی جس کے سبب شیعہ حضرات حاکموں کے خوف سے آپ کی زیارت کو نہیں آپاتے تھے اسی لئے امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اس دیوار کی پشت سے بھی امام کاظم علیہ السلام کو سلام کرلو [6]۔ دوسری روایت کے مطابق امام علی رضا علیہ السلام نے شیعوں سے فرمایا کہ اطراف میں جو مسجدیں ہیں وہیں جاکر نماز اور دعا پڑھو[7] ۔

امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے ۴۰ سال بعد ۲۲۰ ہجری میں امام محمد تقی علیہ السلام بھی زہر دغا سے شہید کئے گئے اور آپ کے جسم مطہر کو آپ کے جد کے پہلو میں سپرد لحد کیا گیا بعد میں یہ زیارت گاہ اور ان دو اماموں کی قبر شریف مشہد باب التبن سے مشہور ہوئی اس کی وجہ تسمیہ بغداد کے محلوں میں سے ایک محلہ باب التبن تھا جو اس سے نزدیک تھا [8]۔

 

[1] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

[2] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

[3] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

[4] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

[5] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

[6] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

[7] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

[8] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

پرنٹ

ٹیگز امام موسی کاظم ، امام محمد تقی علیہما السلام

تبصرے


تبصرہ بھیجیں


Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات