تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 مقدس مقامات

کاظمین میں مدفون ائمہ کی ہسٹری

کاظمین میں مدفون ائمہ کی ہسٹری
حضرت موسیٰ الکاظم، حضرت جعفر صادق کے فرزند اور اہل تشیع کے ساتویں امام تھے. اسم مبارک موسیٰ , کنیت ابو الحسن علیہ السلام اور لقب کاظم علیہ السلام تھا اور اسی لیے امام موسیٰ کاظم کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں . آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام تھے جن کاخاندانی سلسلہ حضرت امام حسین علیہ السلام شہید کربلا کے واسطہ سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ تک پہنچتا ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حمیدہ علیہ السلام خاتون ملک بر بر کی باشندہ تھیں۔   فہرست 1 ولادت 2 نشو ونما اور تربیت 3 امامت 4 دور ابتلا   ولادت سات صفر 128ھ میں آپ کی ولادت ہوئی . اس وقت آپ والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مسند امامت پرمتمکن تھے اور آپ کے فیوض علمی کا دھارا پوری طاقت کے ساتھ بہہ رہا تھا .اگرچہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے پہلے آپ کے دو بڑے بھائی اسماعیل اور عبدالله پید اہوچکے تھے مگر اس صاحبزادے کی ولادت سے روحانی امانت (جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اس سلسلہ کے افراد میں ایک دوسرے کے بعد چلی آ رہی تھی) کا لائق اور حامل یہی پیدا ہونے والا مبارک بچہ تھا۔ نشو ونما اور تربیت آپ کی عمرکے بیس برس اپنے والد بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السلام کے سایہ تربیت میں گزرے. ایک طرف خدا کے دیے ہوئے فطری کمال کے جوہر اور دوسری طرف اس باپ کی تربیت جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بتائے ہوئے مکارم اخلاق کی بھولی ہوئی یاد کو ایسا تازہ کر دیا کہ انہیں ایک طرح سے اپنا بنا لیا اور جس کی بناء پر ملت جعفری نام ہوگیا . امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے بچپن اور جوانی کا کافی حصہ اسی مقدس آغوش تعلیم میں گزارا. یہاں تک کہ تمام دنیا کے سامنے آپ کے کمالات و فضائل روشن ہوگئے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنا جانشین مقرر فرمادیا . باوجود کہ آپ کے بڑے بھائی بھی موجود تھے مگر خدا کی طرف کامنصب میراث کا ترکہ نہیں ہے بلکہ ذاتی کمال کو ڈھونڈھتا ہے. سلسلہ معصومین علیہم السلام میں امام حسن مجتبی علیہ السلام کے بعد بجائے ان کی اولاد کے امام حسین بن علی علیہ السلام کا امام ہونا اور اولاد امام جعفر صادق علیہ السلام میں بجائے فرزند اکبر کے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف امامت کا منتقل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ معیار امامت میں نسبتی وراثت کو مدِنظر نہیں رکھا گیا ہے۔ امامت 148ھ امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت ہوئی , اس وقت سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بذاتِ خود فرائض امامت کے ذمہ دار ہوئے. اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پر منصور دوانقی بادشاہ تھا . یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں لاتعداد سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے تلوار کے گھاٹ اتار دیے گئے. دیواروں میں چنوا دیے گئے یا قید رکھے گئے تھے. خود امام جعفر صادق علیہ السلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اور مختلف صورت سے تکلیفیں پہنچائی گئی تھیں یہاں تک کہ منصور ہی کا بھیجا ہوا زہر تھا جس سے اب آپ دنیا سے رخصت ہورہے تھے. ان حالات میں آپ کو اپنے جانشین کے متعلق یہ قطعی اندیشہ تھاکہ حکومتِ وقت اسے زندہ نہ رہنے دے گی اس لیے آپ نے ایک اخلاقی بوجھ حکومت کے کاندھوں پر رکھ دینے کے لیے یہ صورت اختیار فرمائی کہ اپنی جائداد اور گھربار کے انتظام کے لیے پانچ اشخاص کی ایک جماعت مقرر فرمائی. جن میں پہلا شخص خود خلیفہ وقت منصور عباسی تھا. اس کے علاوہ محمد بن سلیمان حاکم مدینہ، اپنے بیٹے عبدالله فطح (جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے بڑے تھے)، چوتھے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اورپانچویں ان کی والدہ حمیدہ خاتون تھیں. امام کا اندیشہ بالکل صحیح تھا اور آپ کات حفظ بھی کامیاب ثابت ہوا. چنانچہ جب حضرت کی وفات کی اطلاع منصور کو پہنچی تو اس نے پہلے تو سیاسی مصلحت کے طور پر اظہار رنج کیا. تین مرتبہ انااللهِ و انا الیہ راجعون کہ اور کہا کہ اب بھلا جعفر صادق علیہ السلام کا مثل کون ہے ؟ اس کے بعد حاکم مدینہ کو لکھا کہ اگر جعفر صادق علیہ السلام نے کسی شخص کو اپنا وصی مقرر کیا ہو تو اس کا سر فوراً قلم کردو. حاکم مدینہ نے جواب لکھا کہ انہوں نے تو پانچ وصی مقرر کئے ہیں جن سے پہلے آپ خود ہیں. یہ جواب پڑھ کر منصور دیر تک خاموش رہا اور سوچنے کے بعد کہنے لگا تو اس صورت میں تو یہ لوگ قتل نہیں کیے جاسکتے. اس کے بعد دس برس تک منصور زندہ رہا لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے کوئی تعرض نہیں کیا اور آپ مذہبی فرائض امامت کی انجام دی میں امن وسکون کے ساتھ مصروف رہے. یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں منصور شہر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 751ھ میںیعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پہلے اسے فراغت ہوئی . اس لئے وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السّلامکے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نہیں ہوا. دور ابتلا 851ھ کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا تو اس کا بیٹا مہدی تحت سلطنت پر بیٹھا . شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں گیا مگر چند سال کے بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 461ھئ میں جب وہ حج کے نام سے حجاز کی طرف ایاتو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کردیا . ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت علیہ السلام کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا , مہدی کے بعد اس کابھائی ہادی 921ھئ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مہینے تک اُس نے سلطنت کی . اس کے بعد ہارون رشید کازمانہ ایا جس میں پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نہیں ہوا اخلاق واوصاف حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اسی مقدس سلسلہ کے ایک فرد تھے جس کو خالق نے نوع انسان کے لیے معیار کمال قرار دیا تھا .ا س لیے ان میں سے ہر ایک اپنے وقت میں بہترین اخلاق واوصاف کا مرقع تھا .بے شک یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض افراد میں بعض صفات اتنے ممتاز نظر اتے ہیں کہ سب سے پہلے ان پر نظر پڑتی ہے , چنانچہ ساتویں امام علیہ السلام میںتحمل وبرداشت اورغصہ کوضبط کرنے کی صفت اتنی نمایاں تھی کہ آپ کالقب »کاظم علیہ السلام « قرار پایا گیا جس کے معنی ہیں غصے کو پینے والا . آپ کو کبھی کسی نے تر شروئی اور سختی کے ساتھ بات کرتے نہیں دیکھا اور انتہائی ناگوار حالات میں بھی مسکراتے ہوئے نظر ائے . مدینے کے ایک حاکم سے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچیں . یہاں تک کہ وہ جناب امیر علیہ السلام کی شان میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیا کرتا تھا مگر حضرت علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو ہمیشہ اس کے جواب دینے سے روکا . جب اصحاب نے اس کی گستاخیوں کی بہت شکایات کیں اور یہ کہا کہ ہمیں ضبط کی تاب نہیں . ہمیں اس سے انتقام لینے کی اجازت دی جائے تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا کہ » میں خود اس کاتدارک کروں گا .« اس طرح ان کے جذبات میں سکون پیدا کرنے کے بعد حضرت علیہ السلام خود اس شخص کے پاس ا سکی زراعت پر تشریف لے گئے اور کچھ ایسا احسان اور سلوک فرما یا کہ وہ اپنی گستاخیوں پر نادم ہوا ا ور اپنے طرزِ عمل کو بدل دیا . حضرت علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے صورت حال بیان فرماکر پوچھا کہ جو میں نے اس کے ساتھ کیا وہ اچھا تھا یا جس طرح تم لوگ اس کے ساتھ کرنا چاہتے تھے . سب نے کہا , یقیناً حضور علیہ السلام نے جو طریقہ استعمال فرمایا وہی بہتر تھا . اس طرح آپ نے اپنے جدِ بزرگوار حضرت امیر علیہ السلام کے اس ارشاد کو عمل میں لا کر دکھلایا جو اج تک نہج البلاغہ میں موجود ہے کہ اپنے دشمن پہ احسان کے ساتھ فتح حاصل کرو کیونکہ یہ دو قسم کی فتح میں زیادہ صر لطف کامیابی ہے. بیشک اس کے لیے فریق ُ مخالف کے ظرف کاصحیح اندازا ضروری ہے اور اسی لیے حضرت علی علیہ السلام نے ان الفاظ کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ »خبردار یہ عدم تشدد کاطریقہ نااہل کے ساتھ اختیار نہ کرنا ورنہ اس کے تشدد میں اضافہ ہوجائے گا .,, یقیناً ایسے عدم تشدد کے موقع کو پہچاننے کے لیے ایسی ہی بالغ نگاہ کی ضرورت ہے جیسی امام علیہ السلام کو حاصل تھی مگر یہ اس وقت میں ہے جب مخالف کی طرف سے کوئی ایسا عمل ہوچکا ہو جو اس کے ساتھ انتقامی جواز پیدا کرسکے لیکن اس کی طرف سے اگو کوئی ایسا اقدام ابھی ایسا نہ ہوا تو یہ حضرات بہر حال ا س کے ساتھ احسان کرنا پسند کرتے تھے تاکہ اس کے خلاف حجتقائم ہو اور اسے اپنے جارحانہ اقدام کے لیے تلاش سے بھی کوئی عذر نہ مل سکے .بالکل اسی طرح جیسے ابن ملجم کے ساتھ جو جناب امیر علیہ السلام کو شہید کرنے والا تھا . اخری وقت تک جناب امیر علیہ السّلاماحسان فرماتے رہے . اسی طرح محمد ابنِ اسمٰعیل کے ساتھ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السّلامکی جان لینے کاباعث ہوا , آپ برابر احسان فرماتے رہے , یہاں تک کہ اس سفر کے لیے جو اس نے مدینے سے بغداد کی جانب خلیفہ عباسی کے پاس امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شکائتیں کرنے کے لیے کیا تھا . ساڑھے چار سو دینار اور پندرہ سو درہم کی رقم خود حضرت ہی نے عطا فرمائی تھی جس کو لے کر وہ روانہ ہوا تھا . آپ کو زمانہ بہت ناساز گار ملا تھا . نہ اس وقت وہ علمی دربار قائم رہ سکتا تھا جوامام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانہ میں قائم رہ چکا تھا نہ دوسرے ذرائع سے تبلیغ واشاعت ممکن تھی . بس آپ کی خاموش سیرت ہی تھی جو دنیا کو الِ محمد کی تعلیمات سے روشناس کراسکتی تھی . آپ اپنے مجمعوں میں بھی اکثر بالکل خاموش رہتے تھے یہاں تک کہ جب تک آپ سے کسی امر کے متعلق کوئی سوال نہ کیا جائے آپ گفتگو میںابتدا بھی نہ فرماتے تھے . اس کے باوجود آپ کی علمی جلالت کا سکہ دوست اور دشمن سب کے دل پر قائم تھا اور آپ کی سیرت کی بلندی کو بھی سب مانتے تھے , اسی لیے عام طور پر آپ کو کثرت عبادت اور شب زندہ داری کی وجہ سے »عبد صالح « کے لقب سے یاد جاتا تھا . آپ کی سخاوت اور فیاضی کابھی خاص شہرہ تھااور فقرائ مدینہ کی اکثر پوشیدہ طور پر خبر گیری فرماتے تھے ہر نماز کے صبح کے تعقیبات کے بعد افتاب کے بلند ہونے کے بعد سے پیشانی سجدے میں رکھ دیتے تھے اور زوال کے وقت سراٹھاتے تھے . قران مجید اور پاس بیٹھنے والے بھی آپ کی اواز سے متاثر ہو کر روتے تھے . ہارون رشید کی خلافت اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے مخالفت 071ھئ میں ہادی کے بعد ہارون تخت ُ خلافت پر بیٹھا . سلطنت عباسیہ کے قدیم روایات جو سادات بنی فاطمہ کی مخالفت میں تھے اس کے سامنے تھے خود اس کے باپ منصور کارویہ جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے خلاف تھا اسے معلوم تھا اس کا یہ ارادہ کہ جعفر صادق علیہ السلام کے جانشین کو قتل کر ڈالاجائے یقیناً اس کے بیٹے ہارون #کو معلوم ہوچکا ہوگا . وہ تو امام جعفر صادق علیہ السلام کی حکیمانہ وصیت کا اخلاقی دباؤ تھا جس نے منصور کے ہاتھ باندھ دیے تھے اور شہر بغداد کی تعمیر کی مصروفیت تھی جس نے اسے اس جانب متوجہ نہ ہونے دیا تھا اب ہارون کے لیے ان میںسے کوئی بات مانع نہ تھی . تخت ُ سلطنت پر بیٹھ کر اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے سب سے پہلے تصور پیدا ہوسکتا تھا کہ اس روحانیت کے مرکز کو جو مدینہ کے محلہ بنی ہاشم میںقائم ہے توڑنے کی کوشش کی جائے مگر ایک طرف امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کامحتاط اور خاموش طرزِ عمل اور دوسری طرف سلطنت کے اندرونی مشکلا ت ان کی وجہ سے نوبرس تک ہارون کو بھی کسی کھلے ہوئے تشدد کا امام علیہ السلام کے خلاف موقع نہیں ملا . اس دوران میں عبدالله ابن حسن علیہ السلام کے فرزند یحییٰ کاواقعہ درپیش ہوا ور وہ امان دیے جانے کے بعد تمام عہدو پیمان کوتوڑ کردردناک طریقے پر پہلے قید رکھے گئے او رپھر قتل کئے گئے . باوجودیکہ یحییٰ کے معاملات سے امام موسیٰ کاظم علیہ السّلامکو کسی طرح کا سروکار نہ تھا بلکہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیہ السلام ان کو حکومت ُ وقت کی مخالفت سے منع فرماتے تھے مگر عداوت ُ بنی فاطمہ کاجذبہ جو یحییٰ ابن عبداللهکی مخالفت کے بہانے سے ابھر گیا تھا اس کی زد سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بھی محفوظ نہ رہ سکے . ادھر یحییٰ ابن خالد بر مکی نے جو وزیر اعظام تھا امین (فرزند ہارون رشید) کے اتالیق جعفر ابن محمد اشعث کی رقابت میں اس کے خلاف یہ الزام قائم کیا کہ یہ امام موسی علیہ السلام کاظم کے شیعوں میںسے ہے اور ان کے اقتدار کاخواہاں ہے . براہ راست اس کا مقصد ہارون کو جعفر سے برگزشتہ کرنا تھالیکن بالواستہ ا س کا تعلق حضرت امام موسی علیہ السلام کاظم کے ساتھ بھی . اس لیے ہارون کو حضرت علیہ السلام کی ضرر رسانی کی فکر پیدا ہوگئی.اسی دوران میںیہ واقعہ ہو اکہ ہارون رشید حج کے ارادہ سے مکہ معظمہ میں ایا .اتفاق سے اسی سال امام موسی کاظم علیہ السلام بھی حج کو تشریف لائے ہوئے تھے . ہارون نے اپنی انکھ سے اس عظمت اور مرجعیت کا مشاہدہ کی جو مسلمانوںمیں امام موسی کاظم علیہ السلام کے متعلق پائی جاتی تھی . اس سے بھی اس کے حسد کی اگ بھڑک اٹھی اس کے بعد اس میں محمد بن اسمٰعیل کی مخالفت نے اورا ضافہ کر دیا . واقعہ یہ ہے کہ اسمٰعیل امام جعفر صادق علیہ السلام کے بڑے فرزند تھے اور اس لیے ان کی زندگی میں عام طور پر لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے قائم مقام ہوں گے . مگر ان کا انتقال امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں ہوگیا اور الوگوں کا یہ خیال غلط ثابت ہوا . پھر بھی بعض سادہ لوح اصحاب اس خیال پر قائم رہے کہ جانشینی کاحق اسمٰعیل میں منحصر ہے . انھوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت کو تسلیم نہیں کیا چنانچہ اسماعیلیہ فرقہ مختصر تعداد میں سہی اب بھی دنیا میں موجود ہے- محمد, ان ہی اسمٰعیل کے فرزند تھے اور اس لئے امام موسٰی کاظم علیہ السلام سے ایک طرح کی مخالفت پہلے سے رکھتے تھے مگر چونکہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم تھی اور وہ افراد کوئی نمایاں حیثیت نہ رکھتے تھے اسی لئے ظاہری طور پر امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے یہاں آمدورفت رکھتے تھے اور ظاہر داری کے طور پر قرابت داری کے تعلقات قائم کئے ہوئے تھے- ہارون رشید نے امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی مخالفت کی صورتوں پر غور کرتے ہوئے یحییٰبرمکی سے مشورہ لیا کہ میں چاہتا ہوں کہ اولاد ابوطالب علیہ السلام میں سے کسی کو بلا کر اس سے موسٰی بن جعفر علیہ السلام کے پورے پورے حالات دریافت کروں- یحییٰجو خود عداوتِ بنی فاطمہ میں ہارون سے کم نہ تھا اس نے محمد بن اسمٰعیل کا پتہ دیا کہ آپ ان کو بلا کر دریافت کریں تو صحیح حالات معلوم ہو سکیں گے چنانچہ اسی وقت محمد بن اسمٰعیل کے نام خط لکھا گیا- شہنشاهِ وقت کا خط محمد ابن اسمٰعیل کو پہنچا تو انہوں نے اپنی دنیوی کامیابی کا بہترین ذریعہ سمجھ کر فوراً بغداد جانے کا ارادہ کر لیا- مگر ان دنوں ہاتھ بالکل خالی تھا- اتنا روپیہ پاس موجود نہ تھا کہ سامان سفر کرتے- مجبوراً اسی ڈیوڑھی پر آنا پڑا جہاں کرم و عطا میں دوست اور دشمن کی تمیز نہ تھی- امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے پاس آ کر بغداد جانے کا ارادہ ظاہر کیا- حضرت علیہ السلام خوب سمجھتے تھے کہ اس بغداد کے سفر کی بنیاد کیا ہے- حجت تمام کرنے کی غرض سے آپ نے سفر کا سبب دریافت کیا- انہوں نے اپنی پریشان حالی بیان کرتے ہوئے کہا کر قرضدار بہت ہو گیا ہوں- خیال کرتا ہوں کہ شاید وہاں جا کر کوئی صورت بسر اوقات کی نکلے اور میرا قرضہ ادا ہو جائے- حضرت علیہ السلام نے فرمایا- وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے- میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارا تمام قرضہ ادا کر دوں گا- افسوس ہے کہ محمد نے اس کے بعد بھی بغداد جانے کا ارادہ نہیں بدلا-چلتے وقت حضرت علیہ السلام سے رخصت ہونے لگے- عرض کیا کہ مجھے وہاں کے متعلق کچھ ہدایت فرمائی جائے- حضرت علیہ السلام نے اس کا کچھ جواب نہ دیا- جب انہوں نے کئی مرتبہ اصرار کیا تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا کہ» بس اتنا خیال رکھنا کہ میرے خون میں شریک نہ ہونا اور میرے بچوں کی یتیمی کے باعث نہ ہونا« محمد نے اس کے بعد بہت کہا کہ یہ بھلا کون سی بات ہے جو مجھ سے کہی جاتی ہے, کچھ اور ہدایت فرمایئے- حضرت علیہ السلام نے اس کے علاوہ کچھ کہنے سے انکار کیا- جب وہ چلنے لگے تو حضرت علیہ السلام نے ساڑھے چار سو دینار اور پندرہ سو درہم انہیں مصارف کے لئے عطا فرمائے- نتیجہ وہی ہوا جو حضرت علیہ السلام کے پیش نظر تھا- محمد ابن اسمٰعیل بغداد پہنچے اور وزیر اعظم یحییٰ برمکی کے مہمان ہوئے اس کے بعد یحییٰکے ساتھ ہارون کے دربار میں پہنچے مصلحت وقت کی بنا پر بہت تعظیم و تکریم کی گئی- اثنائ گفتگو میں ہارون نے مدینہ کے حالات دریافت کئے- محمد نے انتہائی غلط بیانیوں کے ساتھ وہاں کے حالات کا تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ میں نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ سنا کہ ایک ملک میں دو بادشاہ ہوں- اس نے کہا کہ اس کا کیا مطلب? محمد نے کہا کہ بالکل اسی طرح جس طرح آپ بغداد میں سلطنت قائم کئے ہوئے ہیں- اطراف ملک سے ان کے پاس خراج پہنچتا ہے اور وہ آپ کے مقابلے کے دعوے دار ہیں- یہی وہ باتیں تھیں جن کے کہنے کے لئے یحییٰ برمکی نے محمد کو منتخب کیا تھا ہارون کا غیظ و غضب انتہائی اشتعال کے درجے تک پہنچ گیا- اس نے محمد کو دس ہزار دینار عطا کر کے رخصت کیا- خدا کا کرنا یہ کہ محمد کو اس رقم سے فائدہ اٹھانے کا ایک دن بھی موقع نہ ملا- اسی شب کو ان کے حلق میں درد پیدا ہوا- صبح ہوتے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہو گئے- ہارون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے اشرفیوں کے توڑے واپس منگوا لئے مگر محمد کی باتوں کا اثر اس کے دل میں ایسا جم گیا تھا کہ اس نے یہ طے کر لیا کہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے- چنانچہ ~0179ئھ میں پھر ہارون رشید نے مکہ معظمہ کا سفر کیا اور وہاں سے مدینہ منورہ گیا- دو ایک روز قیام کے بعد کچھ لوگ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لئے روزانہ کئے- جب یہ لوگ امام علیہ السلام کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت علیہ السلام روضئہ رسول پر ہیں- ان لوگوں نے روضہ پیغمبر علیہ السلام کی عزت کا بھی خیال نہ کیا- حضرت علیہ السلام اس وقت قبر رسول کے نزدیک نماز میں مشغول تھے- بے رحم دشمنوں نے آپ کو نماز کی حالت میں ہی قید کر لیا اور ہارون# کے پاس لے گئے- مدینہ رسول کے رہنے والوں کی بے حسی اس سے پہلے بھی بہت دفعہ دیکھی جا چکی تھی- یہ بھی اس کی ایک مثال تھی کہ رسول کا فرزند روضئہ رسول سے اس طرح گرفتار کر کے لے جایا جا رہا تھا مگر نام نہاد مسلمانوں میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو کسی طرح کی آواز بطور احتجاج بلند کرتا- یہ بیس شوال ~0179ئھ کا واقعہ ہے- ہارون نے اس اندیشے سے کہ کوئی جماعت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو رہا کرنے کی کوشش نہ کرے دو محملیں تیار کرائیں- ایک میں حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو سوار کیا اور اس کو ایک بڑی فوجی جمعیت کے حلقے میں بصرہ روانہ کیا اور دوسری محمل جو خالی تھی اسے بھی اتنی ہی جمعیت کی حفاظت میں بغداد روانہ کیا- مقصد یہ تھا کہ آپ کے محل قیام اور قید کی جگہ کو بھی مشکوک بنا دیا جائے یہ نہایت حسرت ناک واقعہ تھا کہ امام علیہ السلام کے اہل حرم اور بچے وقت رخصت آپ کو دیکھ بھی نہ سکیں اور اچانک محل سرا میں صرف یہ اطلاع پہنچ سکی کہ حضرت علیہ السلام سلطنت وقت کی طرف سے قید کر لئے گئے اس سے بیبیوں اور بچوں میں کہرام برپا ہو گیا اور یقیناً امام علیہ السلام کے دل پر بھی اس کا جو صدمہ ہو سکتا ہے وہ ظاہر ہے- مگر آپ کے ضبط و صبر کی طاقت کے سامنے ہر مشکل آسان تھی- معلوم نہیں کتنے ہیر پھیر سے یہ راستہ کیا گیا تھا کہ پورے ایک مہینہ سترہ روزکے بعد سات ذی الحجہ کو آپ بصرہ پہنچائے گئے- کامل ایک سال تک آپ بصرہ میں قید رہے- یہاں کا حاکم ہارون کا چچا زاد بھائی عیسٰی ابن جعفر تھا شروع میں تو اسے صرف بادشاہ کے حکم تعمیل مدنظر تھی بعد میں اس نے غور کرنا شروع کیا- آخر ان کے قید کئے جانے کا سبب کیا ہے- اس سلسلے میں اس کو امام علیہ السلام کے حالات اور سیرت زندگی اور اخلاق و اوصاف کی جستجو کا موقع بھی ملا اور جتنا اس نے امام علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کیا اتنا اس کے دل پر آپ کی بلندی اخلاق اور حسن کردار کا قائم ہو گیا- اپنے ان تاثرات سے اس نے ہارون کو مطلع بھی کر دیا- ہارون پر اس کا الٹا اثر ہوا کہ عیسٰی کے متعلق بدگمانی پیدا ہو گئی- اس لئے اس نے امام موسٰی کاظم علیہ السلام کو بغداد میں بلا بھیجا- فضل ابن ربیع کی حراست میں دے دیا اور پھر فضل کا رجحان شیعیت کی طرف محسوس کر کے یحییٰبرمکی کو اس کے لئے مقرر کیا- معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام کے اخلاق واوصاف کی کشش ہر ایک پر اپنا اثر ڈالتی تھی- اس لئے ظالم بادشاہ کو نگرانوں کی تبدیلی کی ضرورت پڑتی تھی- شہادت سب سے آخر میں امام علیہ السلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا- آخر اسی قید میں حضرت علیہ السلام کوانگور میں زہر دیا گیا- ~025رجب ~0183ئھ میں ~055سال کی عمر میں حضرت علیہ السلام کی وفات ہوئی بعد وفات آپ کی نعش کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا- مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لئے کچھ اشخاص نے امام علیہ السلام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ مشایعت کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جواب کاظمین کے نام سے مشہور ہے دفن کیا-

مزید

کربلای معلی

کربلا
اربعین کے موقع پر کربلا میں سب سے بڑا مجمع جو دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا صرف کربلا ہی میں دکھائی دیتا ہے۔

مزید

کاظمین امام محمد تقی اور امام موسی کاظم علیہما السلام

کاظمین کی مختصر تاریخ
جس جگہ آج کاظمین کا مقدس آستانہ بنا ہے شروع میں مقابر قریش ( قریش کا قبرستان ) جانا جاتا تھا پہلی بار منصور عباسی نے بغداد کو ۱۴۹ ہجری میں تاسیس کرنے کے بعد اس جگہ کو قبرستان میں تبدیل کیا اس جگہ سب سے پہلے جو دفن ہوا وہ جعفر اکبر منصور کا بیٹا تھا جو کہ ۱۵۰ ہجری میں فوت ہوا[1]۔اس کے بعد ہیثم ابن معاویہ بصرہ کا گورنر جو کہ ۱۵۶ ہجری میں فوت ہوا اس کے بعد اس میں مردے دفنائے جانے لگے[2] ۔ بعض منابع کے تحت یہ قبرستان بنی ہاشم کے قبرستان سے بھی معروف ہے منجملہ شیخ مفید فرماتے ہیں :وہاں بنی ہاشم کا قبرستان تھا اور دیگر بزرگ لوگوں سے منسوب تھا[3]۔ شائد قریش کے لفظ کا انتخاب اس لئے ہو کہ عام طور سے قریشی چاہے بنی عباس ہوں یا دیگر افراد یہاں دفن ہوتے تھے[4]۔ اور بنی ہاشم کے نام سے مشہور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام ایک ۱۸۳ہجری میں جب زہر دغا سے شہید کئے گئے تو قریش کے قبرستان میں سپرد لحد کئے گئے ، اثباۃ الوصیہ کے مولف کے بقول امام موسی کاظم علیہ السلام نے اس جگہ کو اپنی حیات ہی میں خریدا تھا جہاں آپ دفن ہوئے ہیں[5]۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ امام موسی کاظم ؑ کے سپر لحد ہونے کے بعد آپ کی قبر حصار اور پہرے میں رکھ دی گئی جس کے سبب شیعہ حضرات حاکموں کے خوف سے آپ کی زیارت کو نہیں آپاتے تھے اسی لئے امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اس دیوار کی پشت سے بھی امام کاظم علیہ السلام کو سلام کرلو [6]۔ دوسری روایت کے مطابق امام علی رضا علیہ السلام نے شیعوں سے فرمایا کہ اطراف میں جو مسجدیں ہیں وہیں جاکر نماز اور دعا پڑھو[7] ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے ۴۰ سال بعد ۲۲۰ ہجری میں امام محمد تقی علیہ السلام بھی زہر دغا سے شہید کئے گئے اور آپ کے جسم مطہر کو آپ کے جد کے پہلو میں سپرد لحد کیا گیا بعد میں یہ زیارت گاہ اور ان دو اماموں کی قبر شریف مشہد باب التبن سے مشہور ہوئی اس کی وجہ تسمیہ بغداد کے محلوں میں سے ایک محلہ باب التبن تھا جو اس سے نزدیک تھا [8]۔   [1] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹ [2] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹ [3] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹ [4] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹ [5] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹ [6] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹ [7] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹ [8] منتقلۃ الطالبیۃ، ص ۱۷۹

مزید

سامرا اور امامین عسکریین کا روضہ

روضہ مقدس کے مختصر تاریخ
سامرا آستانہ مقدس :  آستانہ امامین عسکریین سے پہچانا جاتا ہے ، شیعوں کی اہم زیارتگاہ میں سے ایک ہے اور یہ شہر عراق میں شیعوں کے چار مقدس شہروں میں سے ایک ہے ۔ آستانہ سامرا کا بنیادی مرکز دسویں امام کا گھر ہے جب متوکل عباسی نے آپ کو طلب کیا تھا تو آپ نے دلیل بن یعقوب نصرانی سے اپنے لئے یہ گھر خریدا تھا [1]۔ یہ گھر سامرا کے محلوں میں سے ایک عسکرالمعتصم نام سے تھا اور گیارہویں امام کو اسی محلہ کی نسبت سے عسکری کے لقب سے جانا جاتا ہے[2]۔  دسویں امام کی شہادت کے بعد آپ کو آپ ہی کے گھر میں دفن کیا گیا ، نیز گیارہویں امام کی شہادت کے بعد آپ کو وہیں سپرد لحد کیا گیا ان دونوں اماموں کے علاوہ اس خاندان کی عظیم شخصیات منجملہ حکیمہ بنت امام محمد تقی علیہ السلام نرجس خاتون ، زوجہ امام حسن عسکری یعنی مادر امام زمان ، جعفر کذاب ابن امام علی نقی بھی یہیں دفن ہیں ۔ لیکن شیخ محمد سماوی نے عربی میں جو نظم لکھی ہے اس میں اس آستانے کی یوں تاریخ بیان کی ہے کہ ۳۳۳ہجری میں ناصر الدولہ ہمدانی نے ان اماموں کی قبر پر گنبد بنوایا اور شہر کے ارد گرد حصار بنوایا[3] پھر ۳۳۷ہجری میں معز الدولہ دیلمی نے ناصر الدولہ کی کامیابی کے بعد سامرا میں شامل ہوا اور اس کے تعمیری کام کو مکمل کیا اس کے بعد اس کے بھائی عضد الدولہ دیلمی نے ۳۶۸ہجری میں بارگاہ پر گنبد بنایا ، تجدید کی اور صحن میں توسیع کی ۔ [4] لیکن معتبر تاریخوں کے مطابق ارسلان بساسیری (عباسی حکومت کے شیعہ حکام میں سے ایک) نے ۴۵۰ہجری میں ان دو اماموں کی قبر پر عمارت بنائی [5]۔ عبد الجلیل قزوینی رازی نے اپنی کتاب النقض میں سامرا پر گنبد کی تعمیر کی نسبت مسلم بن قریش عقیلی جو کہ موصل و حلب کے حکام میں سے تھے ان کی جانب دی ہے ۔[6]خلیفہ عباسی الناصر لدین اللہ کے زمانے میں جو کہ شیعہ مذہب پر تھا سرداب غیبت امام زمانہ پر ایک لکڑی کا نفیس دروازہ بنایا جو ابھی باقی ہے ۔ مورخین کے بقول بساسیری نے جو عمارت بنائی تھی ۶۴۰ہجری میں آتش سوزی کے سبب جو اس پر نام نقش تھا مٹ گیا لیکن منتصر عباسی کے حکم کے مطابق پہلے ہی کی طرح تجدید ہوئی[7] اور اس خلیفہ کے حکم کے مطابق قبر پر صندوقچہ نصب ہوا ۔[8]  سماوی کے منظومہ کے مطابق آل جلائر کے دور حکومت میں سلطان حسن جلائیری کے ذریعہ اس کی تجدید ہوئی [9]۔۱۱۰۶ہجری میں بارگاہ مقدس میں آگ لگ گئی جس کے سبب دروازے فرش ، صندوقچہ قبر اور دیگر نفیس اشیا جل گئیں اس کے بعد شاہ سلطان حسین صفوی کے حکم کے مطابق بارگاہ سامرا کی تجدید ہوئی اور ضریح و صندوقچہ ایران میں بنے اور سامرا بھیجے گئے اور اس کے رسم اجرا میں عظیم اہتمام کیا گیا [10]۔  ۱۲۰۰ہجری میں احمد خان دنبلی حاکم آذربائیجان نے مرزا محمد رفیع بن محمد شفیع مستوفی الممالک کو مامور کیا کہ آستانہ مقدس کی تجدید کریں اور حکم دیا کہ سرداب اور حرم مطہر ، رواق اور ایوان و صحن کو امیر المومنین کے حرم کے مشابہ توسیع دی جائے [11]۔ یہ تعمیرات احمد خان دنبلی کے قتل کے سبب ناتمام رہ گئے لیکن ان کے فرزند حسین قلی خان دنبلی نے ۲۵سال بعد پھر اس کو عملی جامہ پہنایا اور اس کی تجدید کی زائروں کے لئے مہمان سرا ، حمام اور مسجد تعمیر کی حسین قلی خان نے نرجس خاتون اور حکیمہ خاتون کے مزار پر بھی ضریح نصب کی ۔ [12] قاجار کے عہد خلافت میں شیخ عبد الحسین تہرانی معروف بہ شیخ العراقین امیر کبیر کی وصیت کے مطابق ایک تہائی مال کو حرم کے تمام اخراج یعنی گنبد پر سونے کا رنگ صحن اور ایوان کی تعمیر ، ہرے رنگ کے سنگ مرمر ، دیوار ، رواق اور حرم میں تجدید کی اور یہ اقدامات ۱۲۸۵ ہجری میں مکمل ہوا ۔[13] مرزا شیرازی کے زمانے میں سامرا میں چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں حرم کے رواق میں آئینہ کاری ہوئی اور صحن میں پتھر لگے اور باب القبلہ پر ایک بڑی گھڑی نصب کی گئی [14]۔۱۳۵۵ ہجری میں کچھ لوگوں نے رات میں حرم پر حملہ کیا اور اس کے سونے کو چرا لے گئے ۱۳۵۶ ہجری میں بھی حرم کے دروازے کو توڑا اور اس کے شمع دان جو کہ خالص چاندی کا تھا اور ہر ایک کا وزن چالیس کیلو تھا چرا لے گئے ۱۳۸۰ ہجری میں حاج علی اصفہانی کہربائی ، کربلا کے معروف تاجر کے ہاتھوں بارگاہ عسکریین کی تجدید کا کام شروع ہوا جس میں سے اہم کام سونے اور چاندی سے بنی ہوئی ضریح کی تعمیر کا ذکر کیا جاتا ہے مذکورہ شخص نے ۱۳۸۷ہجری میں حرم کے دونوں گلدستہ پر ذاتی خرچ سے طلا کاری کروائی اور حرم کے مشرقی و مغربی علاقہ کی خریداری کرکے صحن کی مساحت میں اضافہ کیا ۔ [15] صدام کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے بارگاہ عسکریین ۶:۴۵ منٹ یا صبح سات بجے چہار شنبہ ۲۳محرم ۱۴۲۷ہجری بمطابق ۲۲فروری ۲۰۰۶عیسوی میں کچھ وہابی دہشتگردوں نے عراقی پلیس کا لباس پہن کر حرم میں داخل ہوئے اور حرم کے محافظوں کے اسلحے کو لے لیا اور حرم کے خادموں سمیت صحن کے ایک کمرے میں ہاتھ پیر باندھ کر بند کردیا اور حرم کو ۲۰۰کیلو وزنی بم دھماکے سے اڑا دیا[16] ۔ اس عظیم حادثہ کے سبب گنبد اور حرم کی عمارت کا کچھ حصہ زمین بوس ہوگیا ۔ ایک سال بعد ۹بجے صبح ۲۷ جمادی الاول ۱۴۲۸ہجری ، بمطابق ۱۳جنوری ۲۰۰۷عیسوی میں دوبارہ دہشتگردوں کا حملہ ہوا اور دونوں طلائی گلدستے اور حرم کے دیگر علاقے سرداب کی چھت زمین بوس ہوگئی ۔[17]  شیعوں نے ان دونوں بم دھماکوں کی شدید مذمت کی اور چند دنوں تک عمومی عزا کا اعلان رہا اور شیعی حوزات علمیہ اور مراجع تقلید کے دروس تعطیل رہے اس حادثے کے بعد دنیا کے تمام شیعوں نے قیمتی اور نفیس تحائف کے ذریعہ سامرا کے اس مقدس حرم کی تجدید کا اعلان کیا اور مقامات مقدسہ کی تجدیدی کمیٹی اور انجینیرس اور معماروں کی مدد سے اس کا آغاز ہوا اور یہ تجدید اب اپنے آخری مرحلہ میں ہے ۔     [1] تاريخ بغداد، ج 12، ص 57. [2]  دائرة المعارف الاسلامية الشيعية، ج 13، ص 138. [3]  مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 318. [4]  مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 321 و 324. [5] الحوادث الجامعة والتجارب النافعة في المائة السابعة، عبدالرزاق بن احمد (ابن الفوطي البغدادي)، ص 79؛ البداية والنهاية، اسماعيل بن کثير الدمشقي (ابن کثير)، ج 13، ص 186. [6] بعض مثالب النواصب في نقض بعض فضائح الروافض، عبدالجليل رازي قزويني، ص 238. [7]  الحوادث الجامعة والتجارب النافعة في المائة السابعة، عبدالرزاق بن احمد (ابن الفوطي البغدادي)، ص 79؛ البداية والنهاية، اسماعيل بن کثير الدمشقي (ابن کثير)، ج 13، ص 186. [8] مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 374. [9] مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 377. [10]  مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 374 و 380. [11] مآثر الکبراء في تاريخ سامراء، ذبيح الله المحلاتي، ج 1، ص 386-387. (به نقل از تحفة العالم، ص 142) [12]  عتبات عاليات عراق، اصغر قائدان، ص۲۰۲ [13] عتبات عاليات عراق، اصغر قائدان، ص 202. [14] دائرةالمعارف تشيع، ج 1، ص 94. [15]  دائرةالمعارف تشيع، ج 1، ص 94. [16]  تقويم شيعه، عبدالحسين نيشابوري، ص 40. [17]  تقويم شيعه، عبدالحسين نيشابوري، ص 155-156.

مزید

وادی السلام

دنیا کا سب سے بڑا قبرستان
قبرستان وادی السلام : وادی السلام کا قبرستان دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے اور تاریخی لحاظ سے بہت قدیمی ہے ، یہ قبرستان ’’ ثویہ ‘‘ نامی علاقہ سے نزدیک ہے اور صدر اسلام میں کوفہ کا سب سے بڑا قبرستان تھا اصحاب رسول و امیر المومنین کافی تعداد میں یہاں پر دفن ہیں ان میں سے صرف کمیل کی قبر باقی ہے۔ وادی السلام کی فضیلت میں بہت ساری روایات نقل ہیں منجملہ امیر المومنین سے منقول ہے کہ دنیا کے کسی خطہ میں کوئی مومن جب مرتا ہے تو اس کی روح سے کہا جاتا ہے کہ وادی السلام سے ملحق ہو جاؤ کیوں کہ وہ حصہ بہشت عدن کا ٹکڑا ہے ۔[1] نیز مروان بن مسلم سے منقول ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام عرض کی میرے بھائی بغداد میں رہتے ہیں خوف اس بات کا ہے کہ کہیں ان کو موت نہ آجائے ، امام نے فرمایا: ’’ما تبالی حیثما مات  اما انہ لا یبقی مومن فی شرق الارض و غربھا الا حشر اللہ روحہ الی وادی السلام ‘‘اس کی فکر نہ کرو کہ کہاں موت آئے گی مشرق و مغرب میں کوئی مومن نہیں مرتا مگر یہ کہ خدا اس کی روح کو وادی السلام میں بھیجتا ہے۔ راوی نے پوچھا : وادی السلام کہاں ہے ؟ امام نے فرمایا:’’ ظھر الکوفہ اما  انی کانی بھم حلق قعود یتحدثون ‘‘یعنی پشت کوفہ ، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگ گروہ گروہ باہم بیٹھ کر گفتگو کر رہے ہیں ۔ [2] اہل سنت کے مورخ ابن عساکر نے بھی اپنی سند سے امام صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی کہ آپ نجف آئے اور فرمایا: وادی السلام مومنین کی روحوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہ کتنی اچھی خاک ہےپھر  مومنوں کے لئے دعا کی ، خدایا میری قبر کو یہیں قرار دے۔[3] ان روایات کے پیش نظر بہت ساری شیعہ شخصیات وصیت کرتی ہیں کہ ان کے جنازے کو نجف منتقل کردیں اور قبرستان وادی السلام میں دفن کریں اس قبرستان میں شیعوں کی تدفین کا آج بھی سلسلہ جاری ہے ، تبدیلیٔ زمان کے ساتھ اس میں وسعت ہوئی اور آج دنیا کا عظیم قبرستان ہے ۔ آخری دنوں کے مشہور شیعہ علماء جو یہاں دفن ہیں وہ حسب ذیل ہیں :سید علی آقا قاضی (م ۱۳۶۶ہجری ) رئیس علی دلواری ، سید ابو تراب خوانساری (م ۱۳۴۶ہجری )شیخ شعبان گیلانی( م ۱۳۴۸ ہجری) و سید جمال الدین افجہ ای۔   [1]  الکافی، ج 3، ص 243 (ط تهران). [2]  الکافی، ج 3، ص 243 (ط تهران)؛ تهذیب الاحکام، ج 1، ص 466. [3]  تاریخ مدینة دمشق، ج 1، ص 213.

مزید

نجف

نجف اشرف کی جغرافیائی حیثِیت
صوبہ نجف ، صوبہ بابل کے شمال ، صوبہ قادسیہ کے مشرق ، صوبہ المثنیٰ کے جنوب مشرق ، صوبہ کربلا کے شمال مغرب اور سعودی عرب کے جنوبی علاقی میں واقع ہے اس صوبہ کی مساحت ۲۸۸۱۶کیلو میٹر مربع ہے اور عراق کا چوتھا عظیم صوبہ ہے اس صوبہ کا مرکز شہر مقدس نجف ہے یہ شہر بغداد (عراق کے دار السلطنت )کے جنوب سے ۱۶۰ کیلو میٹر اور کربلا کے جنوب سے ۸۰ کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ نجف کی آب و ہوا سال بھر گرم رہتی ہے اور چوبیس گھنٹے یہاں درجہ حرارت بالائے صفر ہے ۔ ماہر لسانیات نے نجف کے وجہ تسمیہ میں اختلاف نظر کیا ہے لیکن اجماع اس بات پر ہے کہ سر زمین نجف ایک بلند جگہ کا نام ہے کہ جس کے اطراف میں ہمیشہ بارش کا پانی جمع ہوتا ہے ۔[1] نجف کے دیگر گذشتہ اسماء از این قبیل ہیں : ظہر الکوفہ ، غری ، الذکوات البیض اور مشہد ۔   [1]   الموسوعة التاريخية الجغرافية، ج 12، ص 226

مزید
Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات