تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 ادب اور تحقیق


حقوقی اور اخلاقی مسائل کے حدود کی رعایت

پرنٹ
حقوقی اور اخلاقی مسائل کے حدود کی رعایت

اسلامی مسائل اور احکام مختلف میدانوں میں بیان ہوتے ہیں شرعی  فقہی ، حقوقی ، قانونی اور اخلاقی اقدار حدود کے اختلاف کے ساتھ بہت ضروری ہے کیونکہ ان مسائل کی طرف عدم توجہ ابہام و شبہات بہت وسیع پیمانوں پر پیداکردیتے ہیں اسلام کے قانونی اور حقوقی احکام ان فقہی امور شرعی میں سے ہیں جو انسان کے اجتماعی امور سے متعلق ہیں ۔

وہ احکام جو واجب اور ضروری ہیں اگر ان کی خلاف ورزی کی جائے تو دوسروں کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ مراکز قانون سے ان کی شکایت کریں ۔

لیکن اخلاقی اور اقداری احکام فقہی نقطۂ نظر سے زیادہ تر مستحبات کا حکم رکھتے ہیں اور حسن و کمال کے لحاظ سے خدا و بندے کے درمیان رابطہ ہے وہ احکام جو واجب نہیں ہیں لیکن انسان کی روحانی تکامل میں بہت دخیل ہیں ۔ [1]

اس طرح کے دستور و احکام قرآن میں بہت منظم و مرتب طریقے سے بیان ہوئے ہیں اور بہترین تربیتی روش ہے کیونکہ انسان کو واجب احکام کی طرف شوق دلاتے ہیں اور اخلاقی اقدار کی طرف رہنمائی کرتے ہیں نتیجۃً اس کی روح کو بالیدگی ملتی ہے ۔

عورت کی ضروریات کو پورا کرنا مرد پر واجب ہے اور اگر مرد کا خیال نہ رکھے تو عورت عدالت میں اس کی شکایت کرسکتی ہے لیکن گھر والوں کے لئے ضروریات زندگی کی بہتر فراہمی ایک اخلاقی مسئلہ ہے ۔

اسلام میں پردے کی رعایت عورت پر واجب ہے لیکن عورت کا برقع میں رہنا یہ ایک اخلاقی برتری ہے رویات میں جو عورت کا مرد کے لئے مطیع محض ہونا ہے در حقیقت یہ ایک اخلاقی بلندی ہے اور اس کی با فضیلت عبادت ہے نہ کہ ایک حقوقی اور قانونی امر ۔ مبادا کوئی یہ نہ کہے کہ اسلام عورتوں کے حقوق کی پائیمالی کو مرد کے لئے جائز جانتا ہے۔

شہزادی کا فرمان عورت کی بہتری کے لئے ہے اور اس کی فضیلت کا عکاس ہے کہ جب تک شدید ضرورت اور مجبوری نہ ہو تو بہتر ہے کہ خاتون خانہ بن کر رہیں ۔ یعنی جب تک کوئی شدید ضرورت پیش نہ آجائے عورت کے لئے  بہتر ہے کہ وہ گھر کی چہار دیواری میں رہے ۔

یہی وجہ ہے کہ شہزادی نے فرمایا :

اللہ سے عورت کی نزدیکی کا وہ بہترین لمحہ ہوتا ہے جب وہ گھر میں رہتی ہے ۔ [2]

 

[1] حقوق و سیاست ، مصباح یزدی ، ص ۲۲۔

[2] رسول نے پوچھا کہ خدا سے نزدیک ترین لمحہ کونسا ہے اور کوئی جواب رسول کو پسند نہ آیا تو شہزادی نے فرمایا:

ادنی ما تکون من اربھا ان تلزم قعر بیتھا بہار ، ج۴۳، ص ۹۲ ، ج۱۰۰، ص ۲۵۰، مجمع الزوائد ، ج۹ص ۲۰۲۔



حوالہ جات: حقوق و سیاست ، مصباح یزدی ، ص ۲۲۔
بھیجنے والا: ایڈمنسٹریٹر
 چہلم کے تعلیمی اور ثقافتی چینل میں سبسکرائب کریں

پرنٹ

ٹیگز حقوقی۔ اخلاقی۔ مسائل۔حدود ۔کی رعایت

تبصرے


تبصرہ بھیجیں


Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات