تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 ادب اور تحقیق


رسول کی تائید شدہ خواتین کی سیرت میں غور و خوض

پرنٹ
رسول کی تائید شدہ خواتین کی سیرت میں غور و خوض

وہ خواتین جن کی سیرت پر رسول کی تائید ہے وہ عورتوں کے اجتماعی امور کے سلسلہ میں اسلام کے حکم کا عکاس ہے حضرت خدیجہ کی حیات نہایت ہی توجہ کی طالب ہے ۔ آپ عرب کی ثروت مند تاجر خاتون تھیں اور رسول اکرم آپ کی تجارت میں شریک کار تھے ۔

رسول اسلام خدیجہ کے تجارتی کارواں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور نفع میں سے اپنا حصہ لے کر اصل مال خدیجہ کو واپس کردیتے تھے خدیجہ کے اس عمل پر رسول کی مکمل تائید حاصل تھی اور اسلام کی ترویج و بقا

میں خدیجہ کے مال کا بہت اہم کردار ہے ۔ خدیجہ کا مال اور علی کی تلوار کا اسلام پر احسان ہے ۔

ان دونوں دیگر متمول خواتین تھیں جن کی اقتصادی سرگرمی رسول کی تائید شدہ تھی ۔ انہیں میں سے ایک زینب عطر فروش تھیں کہ رسول آپ کے عطر کی بہت تعریف کرتے تھے اور بہت زیادہ مال خریدتے تھے وہ زینب عطار کے نام سے تاریخ میں مشہور ہیں وہ راویان حدیث میں شمار ہوتی ہیں اور بہت اہم حدیثیں ذکر کی ہیں ۔ زینب کا شغل یہ تھا کہ عطر کے مجموعہ کے ساتھ خریداروں کے پاس جاتیں تھیں اور تجارتی پیشہ کے تحت نا محرم مردوں سے بھی گفتگو کرتی تھیں اور رسول کوئی اعتراض نہیں کرتے بلکہ رسول کی تائید حاصل تھی ۔

خود حیات رسول میں خواتین مسجد میں آتی تھیں اور مردوں کے سامنے رسول سے سوال کرتی تھیں اور آپ نہایت ہی متانت کے ساتھ ان کا جواب دیتے تھے ۔

صدر اسلام میں امداد رسانی کا کام خواتین کا تھا مجاہدین اسلام کے لباس ، کھانے ، زخمی کی دیکھ بھال ، مرحم پٹی ، یہاں تک کہ بعض دفاعی جنگوں میں وہ خواتین جو فن سپہ گری کی مہارت رکھتی تھیں انہوں نے شمشیر زنی کرکے اسلام و بانی اسلام کا دفاع کیا ہے ۔

سیرت فاطمہ اور دیگر خواتین کی سیرت کی تائید رسول اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ضرورت کے وقت اقتصادی اجتماعی ، ثقافتی و سیاسی سرگرمی میں عورتوں کا حصہ لینا کوئی حرج نہیں ہے ۔

کردار و کلام حضرت فاطمہ زہرا ہر زمانے میں نمونہ ہے لیکن اس جانب توجہ ضروری ہے کہ کلام زہرا سے مراد بہتر اور افضل امر ہے ۔

اسلامی نقطہ نظر سے اخلاقی اقدار کے ساتھ خواتین کی اجتماعی سر گرمیاں نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں بلکہ ممدوح و مطلوب ہے ۔ سیاسی اجتماعات ( رہبر سے تجدید عہد ، نماز جمعہ ، الیکشن ، احتجاجی ریلی وغیرہ ) امر بہ معروف نہی از منکر ، تعلیم و تعلم ضروری مہارت کا حصول ، خواتین کے امورمیں مشورت منصوبہ بندی وغیرہ میں شرکت ممدوح ہے ۔

اسلام کی نظر میں خواتین کا اجتماعی امور میں شرکت ممنوع نہیں ہے بلکہ اصل چیز جو منع ہے وہ بے حجابی اور خود نمائی ہے ۔

خداوند تعالیٰ مردوں کے ساتھ اختلاط اور گفتگو کے سلسلے میں فرماتا ہے :

فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِى فِى قَلْبِهِ [1]

پس دل آمیز اور دلربا انداز میں گفتگو نہ کریں ورنہ جس کے دل میں مرض ( ہوس ) ہے ان کے دل میں طمع حصول پیدا ہوگا ۔

یہ آیت یہ نہیں کہہ رہی ہے کہ مردوں کے ساتھ بات نہ کرو بلکہ حکم یہ ہے کہ ان سے عادی گفتگو کرو اور عشوہ گری اور دلربائی سے بات نہ کرو مبادا ان کے دل میں ہوس بھڑک اٹھے ۔

ازواج رسول کو مخاطب کرکے فرمایا :

وَ قَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَ لاَ تَبَرُّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَهِلِيَّةِ الْأُولَى

گھروں میں رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح بے پردہ نہ نکل آؤ۔

’’تبرج ‘‘ کے معنی ، خودنمائی یا خود ٓرائی و زینت کے ہیں قرآن یہ نہیں کہتا کہ کبھی بھی نامحرم مردوں کے بیچ نہ آؤ بلکہ کہتا ہے اگر تمہارا حضور عقلانی ہے تو حجاب کے ساتھ آؤ اور خود نمائی سے پرہیز کرو۔

خدا نے اپنی حکمت اور نظام خلقت و بقائے نسل آدم کی خاطر خاص اطاعت و جذابیت کو عورت میں قرار دیا ہے جس سے خدا نے حسن و لطافت کو عورت میں ودیعت کیا ہے اسی کا حکم ہے کہ اخلاقی اقدار کی رعایت کرو کیونکہ یہ حسن و زیبائی و خود آرائی صرف شوہروں کے لئے مخصوص ہے نہ کہ محرموں کے لئے ۔

مرد و عورت کو چاہئے کہ اپنی ذاتی زندگی کی خوشحالی کے لئے خدا دادی حسن کا خیال رکھیں بلکہ اس کی حفاظت کریں اور اس میں اضافہ کریں اور یہ زینت سازی نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں بلکہ ممدوح ہے اور عبادتوں کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے ۔

 

[1] احزاب ، ۳۲۔



حوالہ جات: احزاب ، ۳۲۔
بھیجنے والا: ایڈمنسٹریٹر
 چہلم کے تعلیمی اور ثقافتی چینل میں سبسکرائب کریں

پرنٹ

ٹیگز رسول۔ تائید شدہ۔ خواتین۔ سیرت ۔ غور و خوض

تبصرے


تبصرہ بھیجیں


Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات