تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 ادب اور تحقیق


زہرا جلوہ گاہ زہد میں

پرنٹ
زہرا جلوہ گاہ زہد میں

 

شہزادی کی ابدی سیرت میں سے ایک ایمان قلب اور سیر و سلوک

الٰہی ہے جو لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتی ہے اور لوگوں کے لئے یہ بہترین نمونہ عمل ہے ، بنیادی طور پر ایک کار آمد ترین اور موثر ترین روش تبلیغ عمل تبلیغ ہے ، کردار ائمہ میں یہ بہترین نمونہ ہے کہ آپ کے یہاں قول و عمل میں مکمل ہم آہنگی ہے یہ حضرات اگر لوگوں کو زہد و ترک دنیا کی دعوت دیتے ہیں تو پہلے خود زہد اختیار کرتے ہیں اور ہوا و ہوس کی آلودگی سے خود کو پاک کرتے ہیں بے مثال نمونہ الٰہی حضرت زہرا اپنی طول حیات میں اس جانب رہنمائی کرنے والی تھیں اور دنیا سے رشتہ توڑ کر خدا سے لو لگائے ہوئے تھیں آپ نے صرف زبان سے دعوت نہیں دی بلکہ عملی طور پر دعوت عمل دیا جس کی تاثیر ہزار زبانی دعوے سے بہتر اور موثر ہے جی ہاں شہزادی کی روش تبلیغ میں تربیتی تھی کہ لوگوں کو زبان کے علاوہ اپنے عمل خیر کے ذریعہ دعوت عمل دو کہ تم میں صرف حق و تقویٰ کی تلاش و کوشش کو دریافت کریں ۔ [1]

شہزادی کا نعرہ معارف قرآن تھا جو مسلسل دنیا سے دوری اور قرب الٰہی کی دعوت تھی ۔ شہزادی ہمیشہ رضایت الٰہی کی تلاش میں تھیں اوربندگان الٰہی کی پسند فانی دنیا نہیں بلکہ دار آخرت ہے :

تریدون عرض الدنیا و اللہ یرید الآخرۃ[2]

تم متاع دنیا کے خواہاں ہو اور اللہ دار آخرت کا ۔

شہزادی ہمیشہ قرب الٰہی چاہتی ہیں اور دنیا پرستی اس راہ کی رکاوٹ ہے دنیا فریب کار ہے دنیا اپنی دلربائی سے لوگوں کو دھوکا دیتی ہے اور

انسان کی ملکوتی روح کو زمین گیر کردیتی ہے ۔ [3]

شہزادی نے دنیا و آخرت کے درمیان آخرت کا انتخاب کیا اور اپنی زندگی کو دنیا سے بے زاری قناعت اور کم سے کم پر صبر کرنے پر گذاری آپ کی زندگی پروٹوکول اور زرق برق سے بالکل دور اور سادہ تھی جو صفا و نشاط و سکون سے لبریز تھی ۔ شہزادی کی سادگی فقر و ناداری کے سبب نہ تھی بلکہ روح کی بالیدگی کے سبب تھی اس دعوے کی دلیل آپ کی وہ زندگی ہے جب فدک آپ کے پاس تھا اور زمین فدک اتنی زر خیز تھی کہ پورے مدینے کے لئے گندم مہیا کرسکتی تھی ۔ حکم خدا کے تحت رسول نے فدک شہزادی کو ہبہ کردیا تھا اور پھر فدک کی ساری درآمد شہزادی کے اختیار میں تھی[4] لیکن خطیر رقم کی در آمد بھی شہزادی کی سادگی میں تبدیلی نہ لاسکی کیونکہ شہزادی نے دنیا کی زرق و برق سے زہد اختیار رکھا تھا اور خدا کی مرضی کی خاطر سب تقسیم کردیتی تھیں[5] جی ہاں ! شہزادی کی سادہ زندگی صبر و تحمل کے سبب نہیں تھا بلکہ آپ کے زہد کے سبب تھا۔

 آپ کا زہد آپ کے والد کی تعلیم کے تحت تھا جنہوں نے تہذیب و تذکیہ نفس فاطمہ کے لئے فرمایا تھا ۔ بیٹی تمہارے باپ و شوہر فقیر نہیں ہیں دنیا کے تمام سونے چاندی کے خزانے پیش کئے گئے لیکن جو کچھ خدا کے پاس باقی رہنے والا تھا اس کو انتخاب کیا بیٹی اگر اپنے باپ کے اسرار سے واقف ہوجاؤ تو دنیا تمہاری نگاہوں میں گر جائے گی ۔ [6]

جی ہاں ! ٖفاطمہ آغوش رسول کی پروردہ تھیں اور دنیا کے زرق و برق سے دوری کو رسول سے سیکھا تھا اس بات کی گواہ یہ تاریخی دستاویز ہے رسول ہر سفرسے پہلے اور سفر سے واپسی پر فاطمہ سے ملاقات کرتے تھے فاطمہ نے ایک بار باپ اور شوہر کے استقبال میں چاندی کا دست بند دو گوشوارے ایک گردن بند اور گھر کا رنگین پردہ خریدا ، رسول ہمیشہ کی طرح جب سفر سے واپس ہوئے تو جب شہزادی کے گھر آئے تو تھوڑی دیر ٹھہرے مگر آپ کے یہاں اضطراب تھا اور خانہ بتول سے مسجد چلے گئے شہزادی نے اپنی عصمتی ذکاوت سے باپ کی حالت کو پڑھ لیا فورا پردے کو اتار دیا اور اپنے زیورات سمیت رسول کی خدمت میں بھیج دیا اور پیغام دیا کہ : آپ کی بیٹی نے سلام کہا ہے اور عرض کی ہے کہ ان سب کو راہ خدا میں خرچ کردیں رسول نے اس کو لیا اور تین بار فرمایا: تم پر تمہارا باپ قربان ہو آل محمد کو دنیا سے کیا کام ؟یہ لوگ دنیا نہیں بلکہ آخرت کے لئے خلق ہوئے ہیں ہر چند پوری دنیا ان کے لئے خلق ہوئی ہے اگر خدا کی نظر میں دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو کوئی کافر اس سے مستفید نہ ہوتا ، پھر مسجد سے اٹھے اور شہزادی کے گھر تشریف لے گئے ۔ [7]

تمام مورخین کے نقل کے مطابق شہزادی کا عقد امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ انجام پایا اور پھر ایک کرایہ کے گھر میں اور پھر کچھ دنوں بعد ایک بہت ہی خستہ حال گھر میں زندگی گذاری ۔

شہزادی نے امیر المومنین کی ہمراہی میں رضایت خدا کی خاطر بہت سادہ زندگی گذاری اسی سبب جو کچھ ملتا یہاں تک کہ اپنے جہیز کا سامان بھی راہ خدا میں انفاق کردیا ۔ ایک دن سلمان نے شہزادی کو بارہ پیوند لگی چادر جو کہ کھجور کی پتی سے سلا تھا دیکھا کہ آپ رسول کے پاس جارہی ہیں تو حیرت زدہ ہوکر رونے لگے اور عرض کی ہائے افسوس ! ایران و روم کے بادشاہوں کی بیٹیاں سونے کے ڈھیر پر بیٹھتی ہیں حریر و دیبا پہنتی ہیں اور خدا کے رسول کی بیٹی بارہ پیوند لگی چادر اوڑھے ہے ۔

جس وقت شہزادی رسول کے پاس گئیں سلمان کی کیفیت بیان کی ۔ اے رسول خدا ! سلمان میری سادہ زندگی پر حیراں ہیں اس خدا کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا پانچ سال ہوگئے میرے گھر کا فرش گوسفند کی وہ کھال ہے جس پر دن میں ہمارا اونٹ گھاس کھاتا ہے اور رات وہی ہمارا بستر ہوتا ہے ہمارا تکیہ کھجور کی پتیوں سے بھرا ہے ۔ رسول نے سلمان سے فرمایا: یقیناً میری بیٹی خدا کی جانب سبقت کرنے والوں میں سے ہے ۔[8]

البتہ جیسا کہ ابتدا میں عرض کرچکے ہیں کہ سیرت فاطمہ کا اصلی نمونہ آپ کی حیات کے روحی پیغام کا ادراک ہے ۔ زہد و سادگی ہر زمانے اور ہر جگہ عمل کے قابل ہے جو دنیا سے دوری اور قرب الٰہی کا پیغام ہے اور لوگوں کو یہ بات بتاتی ہے کہ زہد و سادہ زندگی فقر و ناداری کے سبب نہیں ہے بلکہ یہ ایک فضیلت ہے چاہے فقر ہو یا تونگری یہ ا در حقیقت سکون قلب و بندگی میں کامیابی اور قرب الٰہی کا سبب  ہے یہ نمونہ عمل زندگی، لوگوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی فضیلت و برتری لباس کے زرق برق اور پروٹوکول کے سبب نہیں ہے بلکہ انسان کی اصلی قیمت خدائی رنگ اور روح کی بالیدگی کے سبب ہے اس لئے کہ خدائی رنگ تمام رنگوں میں سب سے بہتر ہے ۔

صبغۃ اللہ و من احسن من اللہ صبغۃ[9]خوش بحال رنگ الہی اور الہی رنگ کے سوا کون سا رنگ بہتر ہے ۔

شہزادی کی نگاہ میں انسان کا معیار اخلاص ہے جتنا ہی گوہر انسان شفاف ہوگا اس کی قیمت زیادہ ہوگی اور جتنا ہی زیادہ بندگی میں خلوص وخود سپردگی ہوگی تو خدا کی طرف سے دنیا و آخرت میں عنایت اتنی ہی زیادہ ہوگی ’’من اصعد الی اللہ خالص عبادتہ اھبط اللہ عزوجل الیہ افضل مصلحتہ ‘‘[10]

جو کوئی اللہ کی بندگی میں خالص ہوگا تو خدا دنیا و آخرت کی سعادت کو اس کی جانب بھیجے گا ۔

 

[1] الامام الصادق(عليه‌السلام): كُونُوا دُعَاةَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ به غيرِ اَلْسِنَتِكُمْ لِيَرَوا مِنْكُمْ الْاجْتِهَادَ وَ الصِّدْقَ وَ الْوَرَعَ امام صادق ، اصول کافی ، ج۲، ص ۸۶۔

[2] انفال ، ۶۸۔

[3] اخلاق در قرآن ، مصباح یزدی ، ص ۲۱۳، ۲۳۰۔

[4] فدک کی سالانہ در آمد ۷۰۰۰۰سے لے کر ۱۲۰۰۰۰سکہ طلا ثبت ہوئی ہے ۔

[5] فدک کی ساری آمدنی آپ کے پاس آتی تھی ، لیکن آپ صرف اپنی ضرورت بھر  اس میں سے لیتی تھیں اور باقی ضرورتمندوں میں تقسیم کردیتی تھیں ، بحار الانوار ، ج۲۹، ص ۱۲۳،ح۲۵۔

[6] رسول‌الله(صلى الله عليه وآله): يَا بُنَيَّة! مَا اَبُوكِ به فقير وَ لاَ بَعْلُكِ به فقير وَ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلىَّ خَزَائِنُ الْاَرْضِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَاخْتَرْتُ مَا عِنْدَ رَبِّى عَزَّوَجَلَّ. يَا بُنَيَّة! لَوْ تَعْلَمِينَ مَا عَلِمَ اَبُوكِ لَسَمَجَتِ الدُّنْيَا فِى عَيْنَيْكِ ... بحار الانوار ، ج۴۳، ص ۱۳۳۔

[7] قال رسول‌الله(صلى الله عليه وآله): «قَدْ جُعِلَتْ فِدَاهَا اَبُوهَا (ثَلاَثَ مَرَّات) مَا لِآلِ مُحَمَّد وَ لِلدُّنْيَا فَاِنَّهُمْ خُلِقُوا لِلْآخِرَةِ وَ خُلِقَتِ الدُّنْيَا لَهُمْ» و به روايتى ديگر: «جُعِلَتْ فِدَاهَا اَبُوهَا ثَلَاثَ مَرَّات لَيْسَتِ الدُّنْيَا مِنْ مُحَمَّد وَ لَا مِنْ آلِ مُحَمَّد وَلَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَاللَّهِ مِن الْخَيْرِ جَنَاحَ بَعُوضَة مَا أَسْقَى فِيهَا كَافِرًا شَرْبَةَ مَاء، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ عَلَيْها۔بحار ، ج۴۳، ص ۲۰، ۷، نیز ص ۸۶۔

[8] قَالت فَاطِمَة(عليها السلام): يَا رَسُولَ اللَّه إِنَّ سَلْمانَ تَعَجَّبَ مِنْ لِبَاسِى، فَوَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مالِىَ وَ لِعَلىّ مُنْذُ خَمْسِ سِنِينَ إِلّا مَسْكُ كَبْش تَعَلَّفَ عَلَيْهَا بِالنَّهَارِ بَعِيرُنَا و اِذَا كَانَ اللَّيْلُ اِفْتَرَشْنَاهُ و إِنَّ مِرْفَقَتَنَا لِمَنْأَدْم حَشْوُهَا لِيفٌ». فَقَالَ النَّبِى(صلى الله عليه وآله): يَا سَلْمَانَ! إِنَّ ابْنَتِى لَفِى الْخَيْلِ السَّوَابِق.بحار ، ج۴۳، ص ۸۸، تفسیر البرہان ، ج۲، ص ۳۴۶، ریاحین الشریعہ ، ج۱، ص ۱۴۸۔

[9] بقرہ ، ۱۳۸۔

[10] بحار ، ج۶۷، ص ۲۴۹، عوالم ، ج۱۱، ص ۶۲۳، تفسیر امام حسن عسکری ، ص ۳۲۸، ح۱۷۷۔



حوالہ جات: بحار ، ج۶۷، ص ۲۴۹، عوالم ، ج۱۱، ص ۶۲۳، تفسیر امام حسن عسکری ، ص ۳۲۸، ح۱۷۷۔
بھیجنے والا: ایڈمنسٹریٹر
 چہلم کے تعلیمی اور ثقافتی چینل میں سبسکرائب کریں

پرنٹ

ٹیگز زہرا۔ جلوہ گاہ۔ زہد میں

تبصرے


تبصرہ بھیجیں


Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات