تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 ادب اور تحقیق

باپ کی عظمت

ﺍﯾﮏ شخص ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽﮐﮧ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ! ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﺘﺎ نہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ. ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ والد محترم ﮐﻮ بلوایا، ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ آلہ و ﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ ﺗﻮﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮬﻮﺋﮯ... ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻠﮯ... ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺠﮫ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ کہتے ہوئے پہنچے. ﺍﺩﮬﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﻞ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ معاملہ ﺑﻌﺪﻣﯿﮟ ﺳﻨﺌﯿﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﮮﺁ ﺭﮨﮯ ﮬﯿﮟ. ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﻦ ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭﺳﻨﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﻮﮮ ﺁﺋﮯ ﮬﯿﮟ. ﻭﮦ ﻣﺨﻠﺺ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ... ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ بھی ﻧﮩﯿﮟ ہوئے، ﻣﯿﺮﮮ اپنے ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ابھی ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﮯ... ﺁﭖ کے ﺭﺏ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﺌﯿﮯ.... اور آپ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ کو بتا بهی دیا. ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺍﻥ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ ( ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ آسان ﺗﺮﺟﻤﮧ بتانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ جو اشعار تھے اور جس اعلی پائے کے تھے اور جو جذبات کی کیفیت تھی، ان کی صحیح ترجمانی اردو میں مشکل ہے بہرحال اشعار کچھ اس طرح سے تھے کہ ) ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ ﮨﻤﺎﺭﯼ محنت ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ. ﺗﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﮨﻢ ﺳﻮ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﮯﺗﮭﮯ. ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ. ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻃﺒﯿﺐﮐﮯ ﭘﺎﺱ علاج معالجے کے لیے مارے مارے پھرتے تھے ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ تجھے کچھ ہو نہ جائے. ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ حالانکہ ﻣﻮﺕ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎﺭﮨﺎ ﮐﮧﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎؤﮞ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﭨﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﻮﮌﮮ ﺗﻐﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﺮمی ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﺟﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ اب ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮉﯾﺎﮞ تک کمزور ﮨﻮ گئی ہیں لیکن تو کڑیل جوان ہو گیا ہے.... ﭘﮭﺮ.... ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺰﺍﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ڈال ﻟﺌﮯ لیکن ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺎﺭ ﺁﮔﺌﯽ... ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﺏ میری خواہش اور ﺍﻣﯿﺪ پوری ہوئی ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﭼﻞﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ ﻣﮕﺮﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺗﮯ ﮬﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﯿﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ.... ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ.... ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﮐﮧ جیسے ﻣﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ ہے ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐوئی غلام ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿں کرتا... ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ساری زندگی کی ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ ﺩﯾﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮ ﮬﻮﮞ.... ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮئی ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ... ﺗﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﺮ.... ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے چہرہ مبارک ﭘﺮ پڑی تو دیکھا کہ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ. ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ جلال ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ کا گریبان پکڑ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ انت و ما لک لا بیک ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯاللہ کریم سے دعا ھے رب ارحمهما كما ربياني صغيرا

مزید

زہرا جلوہ گاہ زہد میں

  شہزادی کی ابدی سیرت میں سے ایک ایمان قلب اور سیر و سلوک الٰہی ہے جو لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتی ہے اور لوگوں کے لئے یہ بہترین نمونہ عمل ہے ، بنیادی طور پر ایک کار آمد ترین اور موثر ترین روش تبلیغ عمل تبلیغ ہے ، کردار ائمہ میں یہ بہترین نمونہ ہے کہ آپ کے یہاں قول و عمل میں مکمل ہم آہنگی ہے یہ حضرات اگر لوگوں کو زہد و ترک دنیا کی دعوت دیتے ہیں تو پہلے خود زہد اختیار کرتے ہیں اور ہوا و ہوس کی آلودگی سے خود کو پاک کرتے ہیں بے مثال نمونہ الٰہی حضرت زہرا اپنی طول حیات میں اس جانب رہنمائی کرنے والی تھیں اور دنیا سے رشتہ توڑ کر خدا سے لو لگائے ہوئے تھیں آپ نے صرف زبان سے دعوت نہیں دی بلکہ عملی طور پر دعوت عمل دیا جس کی تاثیر ہزار زبانی دعوے سے بہتر اور موثر ہے جی ہاں شہزادی کی روش تبلیغ میں تربیتی تھی کہ لوگوں کو زبان کے علاوہ اپنے عمل خیر کے ذریعہ دعوت عمل دو کہ تم میں صرف حق و تقویٰ کی تلاش و کوشش کو دریافت کریں ۔ [1] شہزادی کا نعرہ معارف قرآن تھا جو مسلسل دنیا سے دوری اور قرب الٰہی کی دعوت تھی ۔ شہزادی ہمیشہ رضایت الٰہی کی تلاش میں تھیں اوربندگان الٰہی کی پسند فانی دنیا نہیں بلکہ دار آخرت ہے : تریدون عرض الدنیا و اللہ یرید الآخرۃ[2] تم متاع دنیا کے خواہاں ہو اور اللہ دار آخرت کا ۔ شہزادی ہمیشہ قرب الٰہی چاہتی ہیں اور دنیا پرستی اس راہ کی رکاوٹ ہے دنیا فریب کار ہے دنیا اپنی دلربائی سے لوگوں کو دھوکا دیتی ہے اور انسان کی ملکوتی روح کو زمین گیر کردیتی ہے ۔ [3] شہزادی نے دنیا و آخرت کے درمیان آخرت کا انتخاب کیا اور اپنی زندگی کو دنیا سے بے زاری قناعت اور کم سے کم پر صبر کرنے پر گذاری آپ کی زندگی پروٹوکول اور زرق برق سے بالکل دور اور سادہ تھی جو صفا و نشاط و سکون سے لبریز تھی ۔ شہزادی کی سادگی فقر و ناداری کے سبب نہ تھی بلکہ روح کی بالیدگی کے سبب تھی اس دعوے کی دلیل آپ کی وہ زندگی ہے جب فدک آپ کے پاس تھا اور زمین فدک اتنی زر خیز تھی کہ پورے مدینے کے لئے گندم مہیا کرسکتی تھی ۔ حکم خدا کے تحت رسول نے فدک شہزادی کو ہبہ کردیا تھا اور پھر فدک کی ساری درآمد شہزادی کے اختیار میں تھی[4] لیکن خطیر رقم کی در آمد بھی شہزادی کی سادگی میں تبدیلی نہ لاسکی کیونکہ شہزادی نے دنیا کی زرق و برق سے زہد اختیار رکھا تھا اور خدا کی مرضی کی خاطر سب تقسیم کردیتی تھیں[5] جی ہاں ! شہزادی کی سادہ زندگی صبر و تحمل کے سبب نہیں تھا بلکہ آپ کے زہد کے سبب تھا۔  آپ کا زہد آپ کے والد کی تعلیم کے تحت تھا جنہوں نے تہذیب و تذکیہ نفس فاطمہ کے لئے فرمایا تھا ۔ بیٹی تمہارے باپ و شوہر فقیر نہیں ہیں دنیا کے تمام سونے چاندی کے خزانے پیش کئے گئے لیکن جو کچھ خدا کے پاس باقی رہنے والا تھا اس کو انتخاب کیا بیٹی اگر اپنے باپ کے اسرار سے واقف ہوجاؤ تو دنیا تمہاری نگاہوں میں گر جائے گی ۔ [6] جی ہاں ! ٖفاطمہ آغوش رسول کی پروردہ تھیں اور دنیا کے زرق و برق سے دوری کو رسول سے سیکھا تھا اس بات کی گواہ یہ تاریخی دستاویز ہے رسول ہر سفرسے پہلے اور سفر سے واپسی پر فاطمہ سے ملاقات کرتے تھے فاطمہ نے ایک بار باپ اور شوہر کے استقبال میں چاندی کا دست بند دو گوشوارے ایک گردن بند اور گھر کا رنگین پردہ خریدا ، رسول ہمیشہ کی طرح جب سفر سے واپس ہوئے تو جب شہزادی کے گھر آئے تو تھوڑی دیر ٹھہرے مگر آپ کے یہاں اضطراب تھا اور خانہ بتول سے مسجد چلے گئے شہزادی نے اپنی عصمتی ذکاوت سے باپ کی حالت کو پڑھ لیا فورا پردے کو اتار دیا اور اپنے زیورات سمیت رسول کی خدمت میں بھیج دیا اور پیغام دیا کہ : آپ کی بیٹی نے سلام کہا ہے اور عرض کی ہے کہ ان سب کو راہ خدا میں خرچ کردیں رسول نے اس کو لیا اور تین بار فرمایا: تم پر تمہارا باپ قربان ہو آل محمد کو دنیا سے کیا کام ؟یہ لوگ دنیا نہیں بلکہ آخرت کے لئے خلق ہوئے ہیں ہر چند پوری دنیا ان کے لئے خلق ہوئی ہے اگر خدا کی نظر میں دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو کوئی کافر اس سے مستفید نہ ہوتا ، پھر مسجد سے اٹھے اور شہزادی کے گھر تشریف لے گئے ۔ [7] تمام مورخین کے نقل کے مطابق شہزادی کا عقد امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ انجام پایا اور پھر ایک کرایہ کے گھر میں اور پھر کچھ دنوں بعد ایک بہت ہی خستہ حال گھر میں زندگی گذاری ۔ شہزادی نے امیر المومنین کی ہمراہی میں رضایت خدا کی خاطر بہت سادہ زندگی گذاری اسی سبب جو کچھ ملتا یہاں تک کہ اپنے جہیز کا سامان بھی راہ خدا میں انفاق کردیا ۔ ایک دن سلمان نے شہزادی کو بارہ پیوند لگی چادر جو کہ کھجور کی پتی سے سلا تھا دیکھا کہ آپ رسول کے پاس جارہی ہیں تو حیرت زدہ ہوکر رونے لگے اور عرض کی ہائے افسوس ! ایران و روم کے بادشاہوں کی بیٹیاں سونے کے ڈھیر پر بیٹھتی ہیں حریر و دیبا پہنتی ہیں اور خدا کے رسول کی بیٹی بارہ پیوند لگی چادر اوڑھے ہے ۔ جس وقت شہزادی رسول کے پاس گئیں سلمان کی کیفیت بیان کی ۔ اے رسول خدا ! سلمان میری سادہ زندگی پر حیراں ہیں اس خدا کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا پانچ سال ہوگئے میرے گھر کا فرش گوسفند کی وہ کھال ہے جس پر دن میں ہمارا اونٹ گھاس کھاتا ہے اور رات وہی ہمارا بستر ہوتا ہے ہمارا تکیہ کھجور کی پتیوں سے بھرا ہے ۔ رسول نے سلمان سے فرمایا: یقیناً میری بیٹی خدا کی جانب سبقت کرنے والوں میں سے ہے ۔[8] البتہ جیسا کہ ابتدا میں عرض کرچکے ہیں کہ سیرت فاطمہ کا اصلی نمونہ آپ کی حیات کے روحی پیغام کا ادراک ہے ۔ زہد و سادگی ہر زمانے اور ہر جگہ عمل کے قابل ہے جو دنیا سے دوری اور قرب الٰہی کا پیغام ہے اور لوگوں کو یہ بات بتاتی ہے کہ زہد و سادہ زندگی فقر و ناداری کے سبب نہیں ہے بلکہ یہ ایک فضیلت ہے چاہے فقر ہو یا تونگری یہ ا در حقیقت سکون قلب و بندگی میں کامیابی اور قرب الٰہی کا سبب  ہے یہ نمونہ عمل زندگی، لوگوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی فضیلت و برتری لباس کے زرق برق اور پروٹوکول کے سبب نہیں ہے بلکہ انسان کی اصلی قیمت خدائی رنگ اور روح کی بالیدگی کے سبب ہے اس لئے کہ خدائی رنگ تمام رنگوں میں سب سے بہتر ہے ۔ صبغۃ اللہ و من احسن من اللہ صبغۃ[9]خوش بحال رنگ الہی اور الہی رنگ کے سوا کون سا رنگ بہتر ہے ۔ شہزادی کی نگاہ میں انسان کا معیار اخلاص ہے جتنا ہی گوہر انسان شفاف ہوگا اس کی قیمت زیادہ ہوگی اور جتنا ہی زیادہ بندگی میں خلوص وخود سپردگی ہوگی تو خدا کی طرف سے دنیا و آخرت میں عنایت اتنی ہی زیادہ ہوگی ’’من اصعد الی اللہ خالص عبادتہ اھبط اللہ عزوجل الیہ افضل مصلحتہ ‘‘[10] جو کوئی اللہ کی بندگی میں خالص ہوگا تو خدا دنیا و آخرت کی سعادت کو اس کی جانب بھیجے گا ۔   [1] الامام الصادق(عليه‌السلام): كُونُوا دُعَاةَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ به غيرِ اَلْسِنَتِكُمْ لِيَرَوا مِنْكُمْ الْاجْتِهَادَ وَ الصِّدْقَ وَ الْوَرَعَ امام صادق ، اصول کافی ، ج۲، ص ۸۶۔ [2] انفال ، ۶۸۔ [3] اخلاق در قرآن ، مصباح یزدی ، ص ۲۱۳، ۲۳۰۔ [4] فدک کی سالانہ در آمد ۷۰۰۰۰سے لے کر ۱۲۰۰۰۰سکہ طلا ثبت ہوئی ہے ۔ [5] فدک کی ساری آمدنی آپ کے پاس آتی تھی ، لیکن آپ صرف اپنی ضرورت بھر  اس میں سے لیتی تھیں اور باقی ضرورتمندوں میں تقسیم کردیتی تھیں ، بحار الانوار ، ج۲۹، ص ۱۲۳،ح۲۵۔ [6] رسول‌الله(صلى الله عليه وآله): يَا بُنَيَّة! مَا اَبُوكِ به فقير وَ لاَ بَعْلُكِ به فقير وَ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلىَّ خَزَائِنُ الْاَرْضِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَاخْتَرْتُ مَا عِنْدَ رَبِّى عَزَّوَجَلَّ. يَا بُنَيَّة! لَوْ تَعْلَمِينَ مَا عَلِمَ اَبُوكِ لَسَمَجَتِ الدُّنْيَا فِى عَيْنَيْكِ ... بحار الانوار ، ج۴۳، ص ۱۳۳۔ [7] قال رسول‌الله(صلى الله عليه وآله): «قَدْ جُعِلَتْ فِدَاهَا اَبُوهَا (ثَلاَثَ مَرَّات) مَا لِآلِ مُحَمَّد وَ لِلدُّنْيَا فَاِنَّهُمْ خُلِقُوا لِلْآخِرَةِ وَ خُلِقَتِ الدُّنْيَا لَهُمْ» و به روايتى ديگر: «جُعِلَتْ فِدَاهَا اَبُوهَا ثَلَاثَ مَرَّات لَيْسَتِ الدُّنْيَا مِنْ مُحَمَّد وَ لَا مِنْ آلِ مُحَمَّد وَلَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَاللَّهِ مِن الْخَيْرِ جَنَاحَ بَعُوضَة مَا أَسْقَى فِيهَا كَافِرًا شَرْبَةَ مَاء، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ عَلَيْها۔بحار ، ج۴۳، ص ۲۰، ۷، نیز ص ۸۶۔ [8] قَالت فَاطِمَة(عليها السلام): يَا رَسُولَ اللَّه إِنَّ سَلْمانَ تَعَجَّبَ مِنْ لِبَاسِى، فَوَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مالِىَ وَ لِعَلىّ مُنْذُ خَمْسِ سِنِينَ إِلّا مَسْكُ كَبْش تَعَلَّفَ عَلَيْهَا بِالنَّهَارِ بَعِيرُنَا و اِذَا كَانَ اللَّيْلُ اِفْتَرَشْنَاهُ و إِنَّ مِرْفَقَتَنَا لِمَنْأَدْم حَشْوُهَا لِيفٌ». فَقَالَ النَّبِى(صلى الله عليه وآله): يَا سَلْمَانَ! إِنَّ ابْنَتِى لَفِى الْخَيْلِ السَّوَابِق.بحار ، ج۴۳، ص ۸۸، تفسیر البرہان ، ج۲، ص ۳۴۶، ریاحین الشریعہ ، ج۱، ص ۱۴۸۔ [9] بقرہ ، ۱۳۸۔ [10] بحار ، ج۶۷، ص ۲۴۹، عوالم ، ج۱۱، ص ۶۲۳، تفسیر امام حسن عسکری ، ص ۳۲۸، ح۱۷۷۔

مزید

اجتماعی سرگرمیوں میں نفسیاتی سکون کا خیال رکھنا

وہ مرد جو دن بھر میں دسیوں بے حجاب اور آرائش کردہ عورتوں سے متلذذہوتا ہے وہ کس طرح سکون قلب کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکتا ہے اور کس طرح اپنی شریک حیات کے ساتھ سکون سے رہ سکتا ہے ۔ یورپ اور امریکا میں خواتین آرائش کرکے نا محرموں کی محفل و مجمع میں پیش ہوتی ہیں تو اس کے سبب شیرازۂ حیات و خانوادہ دھیرے دھیرے بکھر جاتا ہے کیونکہ پھر بنیاد خانوادہ مستحکم نہیں رہ جائے گا تاکہ اس پر حیات و خوشحالی کی عمارت تعمیر کرسکیں ۔ جنسی آزادی اس معاشرے میں اتنی آزاد ہے کہ پھر دوام حیات و ازدواجی زندگی کی بقا کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ۔ یہی وجہ ہے کہ مرد لوگ عورتوں کے حسن سے بیزار ہوکر ہم جنس بازی نابالغ بچوں کے ساتھ جنسی تجاوز اور حیوانات سے بد فعلی کرتے ہیں ۔ عورتیں زینت آرائی و مقابلہ حسن میں بڑھ چڑح کر حصہ لیتی ہیں تاکہ مردوں کی توجہات مبذول کراسکیں یہاں تک کہ شادی شدہ عورتیں مردوں کو وقت ملاقات ( date) دیتی ہیں ان کا شوہر بغل کے کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے اور یہ خلوت میں آتش ہوس کو بجھارہی ہوتی ہیں ۔ امریکہ میں اگر بیوی آدھی رات کو فحشا و منکرات سے ہوکر آتی ہے تو مرد کو قانونی لحاظ سے اعتراض کا حق نہیں ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ نادان اور شہوت پیشہ اور غرب زدہ افراد کا خیال ہے کہ عورتوں کے حقوق اس وقت ادا ہوں گے جب وہ نا محرموں کے لئے خود آرا و خدنمائی میں مکمل آزاد ہو یہ لوگ مغربی خواتین کی جنسی آزادی و بے لگامی کو سراہتے ہیں اور اسلامی حجاب و پردے کی مذمت کرتے ہیں ۔ شہوت نے ان کی عقل کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے ان کو حقیقت کے دیکھنے کے تاب نہیں ہے ۔ یہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بے حجابی و بے عفتی انسانیت کے حق میں بہت بڑا ظلم اور عورت کے حق کی پائیمالی ہے ۔ مغربی ثقافت میں عورت مردوں کی شہوت کا بازیچہ ہے اس ماحول میں عورت کی قدر اس وقت تک ہے جس تک وہ حسین و جوان ہے لیکن جیسے اس کی جوانی ڈھلے اور حسن ماند پڑ جائے تو وہ ایک بے قیمت شی کے سوا کچھ نہیں ۔ پھر مرد ان کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور نئے و نو رسیدہ کی طرف چلے جاتے ہیں ان کے ماحول میں وہ لڑکی جس کا حسن زائل ہوگیا وہ ذلت و رسوائی کی زندگی گذارے ۔ اگر ہم مغربی ماحول کے درد ذلت کو جانتے تو انسانی معاشرے کی خدمت جو اسلام نے کی ہے اس کی زیادہ قدر کرتے ۔ یہ اسلام ہے جو حکمت ازدواج کے ذریعہ عورتوں کو عزت و شرافت و کرامت دی ہے اور گھر و خاندان کو جنت میں بدل دیا ہے ۔ اسلامی اقدار کی رعایت کے سبب مسلمانوں اورخواتین کو ایسا جنت نظیر بنا دیا ہے کہ یورپی خواتین رشک کرتی ہیں ۔ امریکائی اور مغربی خواتین جب اپنے آپ کو اس دلدل سے آزاد کرتی ہیں ۔ اور ایرانی خواتین کی عزت و کرامت کو دیکھتی ہیں تو ورطہ حیرت میں غرق ہوکر رشک کرتی ہیں ۔ [1]   [1] میں مغربی عورتوں کو رشک کرتے ہوئے خود دیکھا ہے 

مزید

رسول کی تائید شدہ خواتین کی سیرت میں غور و خوض

وہ خواتین جن کی سیرت پر رسول کی تائید ہے وہ عورتوں کے اجتماعی امور کے سلسلہ میں اسلام کے حکم کا عکاس ہے حضرت خدیجہ کی حیات نہایت ہی توجہ کی طالب ہے ۔ آپ عرب کی ثروت مند تاجر خاتون تھیں اور رسول اکرم آپ کی تجارت میں شریک کار تھے ۔ رسول اسلام خدیجہ کے تجارتی کارواں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور نفع میں سے اپنا حصہ لے کر اصل مال خدیجہ کو واپس کردیتے تھے خدیجہ کے اس عمل پر رسول کی مکمل تائید حاصل تھی اور اسلام کی ترویج و بقا میں خدیجہ کے مال کا بہت اہم کردار ہے ۔ خدیجہ کا مال اور علی کی تلوار کا اسلام پر احسان ہے ۔ ان دونوں دیگر متمول خواتین تھیں جن کی اقتصادی سرگرمی رسول کی تائید شدہ تھی ۔ انہیں میں سے ایک زینب عطر فروش تھیں کہ رسول آپ کے عطر کی بہت تعریف کرتے تھے اور بہت زیادہ مال خریدتے تھے وہ زینب عطار کے نام سے تاریخ میں مشہور ہیں وہ راویان حدیث میں شمار ہوتی ہیں اور بہت اہم حدیثیں ذکر کی ہیں ۔ زینب کا شغل یہ تھا کہ عطر کے مجموعہ کے ساتھ خریداروں کے پاس جاتیں تھیں اور تجارتی پیشہ کے تحت نا محرم مردوں سے بھی گفتگو کرتی تھیں اور رسول کوئی اعتراض نہیں کرتے بلکہ رسول کی تائید حاصل تھی ۔ خود حیات رسول میں خواتین مسجد میں آتی تھیں اور مردوں کے سامنے رسول سے سوال کرتی تھیں اور آپ نہایت ہی متانت کے ساتھ ان کا جواب دیتے تھے ۔ صدر اسلام میں امداد رسانی کا کام خواتین کا تھا مجاہدین اسلام کے لباس ، کھانے ، زخمی کی دیکھ بھال ، مرحم پٹی ، یہاں تک کہ بعض دفاعی جنگوں میں وہ خواتین جو فن سپہ گری کی مہارت رکھتی تھیں انہوں نے شمشیر زنی کرکے اسلام و بانی اسلام کا دفاع کیا ہے ۔ سیرت فاطمہ اور دیگر خواتین کی سیرت کی تائید رسول اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ضرورت کے وقت اقتصادی اجتماعی ، ثقافتی و سیاسی سرگرمی میں عورتوں کا حصہ لینا کوئی حرج نہیں ہے ۔ کردار و کلام حضرت فاطمہ زہرا ہر زمانے میں نمونہ ہے لیکن اس جانب توجہ ضروری ہے کہ کلام زہرا سے مراد بہتر اور افضل امر ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے اخلاقی اقدار کے ساتھ خواتین کی اجتماعی سر گرمیاں نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں بلکہ ممدوح و مطلوب ہے ۔ سیاسی اجتماعات ( رہبر سے تجدید عہد ، نماز جمعہ ، الیکشن ، احتجاجی ریلی وغیرہ ) امر بہ معروف نہی از منکر ، تعلیم و تعلم ضروری مہارت کا حصول ، خواتین کے امورمیں مشورت منصوبہ بندی وغیرہ میں شرکت ممدوح ہے ۔ اسلام کی نظر میں خواتین کا اجتماعی امور میں شرکت ممنوع نہیں ہے بلکہ اصل چیز جو منع ہے وہ بے حجابی اور خود نمائی ہے ۔ خداوند تعالیٰ مردوں کے ساتھ اختلاط اور گفتگو کے سلسلے میں فرماتا ہے : فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِى فِى قَلْبِهِ [1] پس دل آمیز اور دلربا انداز میں گفتگو نہ کریں ورنہ جس کے دل میں مرض ( ہوس ) ہے ان کے دل میں طمع حصول پیدا ہوگا ۔ یہ آیت یہ نہیں کہہ رہی ہے کہ مردوں کے ساتھ بات نہ کرو بلکہ حکم یہ ہے کہ ان سے عادی گفتگو کرو اور عشوہ گری اور دلربائی سے بات نہ کرو مبادا ان کے دل میں ہوس بھڑک اٹھے ۔ ازواج رسول کو مخاطب کرکے فرمایا : وَ قَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَ لاَ تَبَرُّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَهِلِيَّةِ الْأُولَى گھروں میں رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح بے پردہ نہ نکل آؤ۔ ’’تبرج ‘‘ کے معنی ، خودنمائی یا خود ٓرائی و زینت کے ہیں قرآن یہ نہیں کہتا کہ کبھی بھی نامحرم مردوں کے بیچ نہ آؤ بلکہ کہتا ہے اگر تمہارا حضور عقلانی ہے تو حجاب کے ساتھ آؤ اور خود نمائی سے پرہیز کرو۔ خدا نے اپنی حکمت اور نظام خلقت و بقائے نسل آدم کی خاطر خاص اطاعت و جذابیت کو عورت میں قرار دیا ہے جس سے خدا نے حسن و لطافت کو عورت میں ودیعت کیا ہے اسی کا حکم ہے کہ اخلاقی اقدار کی رعایت کرو کیونکہ یہ حسن و زیبائی و خود آرائی صرف شوہروں کے لئے مخصوص ہے نہ کہ محرموں کے لئے ۔ مرد و عورت کو چاہئے کہ اپنی ذاتی زندگی کی خوشحالی کے لئے خدا دادی حسن کا خیال رکھیں بلکہ اس کی حفاظت کریں اور اس میں اضافہ کریں اور یہ زینت سازی نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں بلکہ ممدوح ہے اور عبادتوں کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے ۔   [1] احزاب ، ۳۲۔

مزید

حضرت فاطمہ کی سیرت میں ژرف نگاہی

شہزادی کا اعلی کردار اجتماعی امور میں بہت فعال رہا ہے شہزادی ہر سنیچر کو شہدائے احد کی زیارت کو جاتی تھیں اور حضرت حمزہ و دیگر شہدا کی مغفرت و علوئے درجات کی دعا کرتی تھیں ۔ [1] شہزادی نے باپ کے وصال حق کے بعد امامت کی حفاظت کے فریضے کی ادائیگی میں کسی بھی فداکاری سے دریغ نہیں کیا اور بارہا اجتماع میں تشریف لائیں اور بے مثال خطبہ ارشاد فرمایا: فصاحت و بلاغت سے لبریز ایک خطبہ ارشاد فرمایا کہ عرب کے نامور فصیح و بلیغ افراد کو حیران و ششدر کردیا ۔ [2] وہی شہزادی جو یہ فرماتی ہیں کہ عورت کے لئے بہتر یہ ہے کہ نہ وہ کسی نا محرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی کوئی نامحرم مرد اس کو دیکھے لیکن اسلامی معاشرے کے مفادات کو خطرے میں دیکھا تو مسجد نبی کی جانب گئیں اور مہاجرین و انصار کے جم غفیر میں غاصبان حق خلافت کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ شہزادی کا یہ کردار اس حقیقت کی تائید ہے کہ میرا گذشتہ قول عورت کے لئے بہتر اور افضل ہے کہ گھر میں رہے اگر اس کو ضرورت پیش نہیں آتی ہے تو ۔   [1] بحار ، ج۴۳، ص ۹۔ [2] رحلت رسول کے بعد شہزادی سے منسوب تین خطبات ذکر ہوئے ہیں ۔

مزید

حقوقی اور اخلاقی مسائل کے حدود کی رعایت

اسلامی مسائل اور احکام مختلف میدانوں میں بیان ہوتے ہیں شرعی  فقہی ، حقوقی ، قانونی اور اخلاقی اقدار حدود کے اختلاف کے ساتھ بہت ضروری ہے کیونکہ ان مسائل کی طرف عدم توجہ ابہام و شبہات بہت وسیع پیمانوں پر پیداکردیتے ہیں اسلام کے قانونی اور حقوقی احکام ان فقہی امور شرعی میں سے ہیں جو انسان کے اجتماعی امور سے متعلق ہیں ۔ وہ احکام جو واجب اور ضروری ہیں اگر ان کی خلاف ورزی کی جائے تو دوسروں کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ مراکز قانون سے ان کی شکایت کریں ۔ لیکن اخلاقی اور اقداری احکام فقہی نقطۂ نظر سے زیادہ تر مستحبات کا حکم رکھتے ہیں اور حسن و کمال کے لحاظ سے خدا و بندے کے درمیان رابطہ ہے وہ احکام جو واجب نہیں ہیں لیکن انسان کی روحانی تکامل میں بہت دخیل ہیں ۔ [1] اس طرح کے دستور و احکام قرآن میں بہت منظم و مرتب طریقے سے بیان ہوئے ہیں اور بہترین تربیتی روش ہے کیونکہ انسان کو واجب احکام کی طرف شوق دلاتے ہیں اور اخلاقی اقدار کی طرف رہنمائی کرتے ہیں نتیجۃً اس کی روح کو بالیدگی ملتی ہے ۔ عورت کی ضروریات کو پورا کرنا مرد پر واجب ہے اور اگر مرد کا خیال نہ رکھے تو عورت عدالت میں اس کی شکایت کرسکتی ہے لیکن گھر والوں کے لئے ضروریات زندگی کی بہتر فراہمی ایک اخلاقی مسئلہ ہے ۔ اسلام میں پردے کی رعایت عورت پر واجب ہے لیکن عورت کا برقع میں رہنا یہ ایک اخلاقی برتری ہے رویات میں جو عورت کا مرد کے لئے مطیع محض ہونا ہے در حقیقت یہ ایک اخلاقی بلندی ہے اور اس کی با فضیلت عبادت ہے نہ کہ ایک حقوقی اور قانونی امر ۔ مبادا کوئی یہ نہ کہے کہ اسلام عورتوں کے حقوق کی پائیمالی کو مرد کے لئے جائز جانتا ہے۔ شہزادی کا فرمان عورت کی بہتری کے لئے ہے اور اس کی فضیلت کا عکاس ہے کہ جب تک شدید ضرورت اور مجبوری نہ ہو تو بہتر ہے کہ خاتون خانہ بن کر رہیں ۔ یعنی جب تک کوئی شدید ضرورت پیش نہ آجائے عورت کے لئے  بہتر ہے کہ وہ گھر کی چہار دیواری میں رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادی نے فرمایا : اللہ سے عورت کی نزدیکی کا وہ بہترین لمحہ ہوتا ہے جب وہ گھر میں رہتی ہے ۔ [2]   [1] حقوق و سیاست ، مصباح یزدی ، ص ۲۲۔ [2] رسول نے پوچھا کہ خدا سے نزدیک ترین لمحہ کونسا ہے اور کوئی جواب رسول کو پسند نہ آیا تو شہزادی نے فرمایا: ادنی ما تکون من اربھا ان تلزم قعر بیتھا بہار ، ج۴۳، ص ۹۲ ، ج۱۰۰، ص ۲۵۰، مجمع الزوائد ، ج۹ص ۲۰۲۔

مزید

متن حدیث میں غور و خوض

  شہزادی کے جملہ ’’ خیر ، بہتر ہے سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ حقیقت حال یہ ہے کہ رجحان اور فائدہ اس میں ہے دوسری بات یہ کہ شہزادی کا کلام یہ ایک نمونہ عمل کے سلسلے میں ہے جس کی رعایت ایک فضیلت رکھتا ہے اور جب تک ضرورت پیش نہ آئے تو اس پر عمل کرنا بہت بہتر ہے اس روایت کا اصل پیغام اور روح یہ ہے کہ جب تک کوئی شدید ضرورت پیش نہ آجائے نا محرموں کا سامنا کرنے سے پرہیز کریں خواتین کے لئے بہتر ہے کہ گھر میں رہیں اور خانوادگی مسائل کو حل کریں ، اگر ایک عورت کو اقتصاد کی ضرورت و مجبوری نہ ہو یا تعلیم و تعلم کے لئے مرد استاد یا مشترک کلاس سے پرہیز کریں ۔ اگر ایک خاتون ڈاکٹر ہیں تو مرد ڈاکٹر کے معالجہ سے گریز کریں ۔ ایک عورت کے لئے بہتر ہے کہ وہ گھر میں رہے اور گھر میں رہ کر امور خانہ تربیت اولاد اور شوہر داری کے فرائض کو حن و خوبی سے انجام دے اگر صاحب فن و ہنر ہیں گھر میں انجام دیں اگر تعلیم و تعلم کی ضرورت ہے تو اپنے ہم صنف ( خواتین ) کے ذریعہ اس کو حل کریں ۔ اگر ضرورت و مجبوری نہ ہوتو عورت کے لئے بہتر ہے کہ وہ نامحرم مرد کے سامنے جانے سے پرہیز کرے اور اس کا مطلب قانون کی ممنوعیت نہیں ہے اسلامی نقطہ نظر سے خواتین اسلامی اقدار و حجاب کی رعایت کرتے ہوئے اجتماعی امور میں حصہ لے سکتیں ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ روایت میں جو حکم آیا ہے وہ ایک بہتر اور با فضیلت امر ہے نہ کہ ایک شرعی حکم ۔ 

مزید

عورتوں کے لئے بہترین نمونہ

  مسجدمیں ایک دن رسول نے تمام مسلمانوں سے سوال کیا :  ای شی خیر للنسا   ٔ کیا چیز عورتوں کے لئے سب سے بہتر ہے ؟ سب نے اپنے لحاظ سے جواب دیا مگر رسول نے کسی جواب سے مطمئن نہیں ہوئے ان کے درمیان سلمان بھی تھے جو بوڑھے اور بہت ذہین مانے جاتے تھے اور ایمان میں بالاتر معروف تھے وہ سمجھ گئے کہ اس سوال کا جواب مردوں کی فکر سے بالاتر ہے ، اٹھے اور خانہ زہرا تک آئے اور اس کا جواب رسول کی اکلوٹی بیٹی سے چاہا ۔ بی بی نے باپ کے جواب میں فرمایا: خیر النسا  ٗ ان لا یرین الرجال و لا یراھن الرجال [1] عورت کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ نہ کسی مرد کو دیکھے اور نہ کوئی مرد اس کو دیکھے ۔ سلمان مجمع میں آئے اور اس کا جواب دیا ۔ رسول سمجھ گئے کہ یہ جواب سلمان کا نہیں ہے لہٰذا پوچھا یہ جواب کہاں سے سیکھا ہے ؟ سلمان نے عرض کیا : اس کا جواب آپ کی بیٹی زہرا سے پوچھا ہے ۔ اس وقت رسول نے فرمایا: جُعِلَتْ فِدَاهَا أَبُوهَا ... إِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّى اس اس کا باپ قربان ،،،،بیشک فاطمہ میرا ٹکڑا ہے یہ معروف حدیث شیعہ و سنی کی حدیثی کتابوں میں مختلف الفاظ میں درج ہے [2] یہ روایت جو شہزادی کی شخصیت و ثقافت کی عکاس ہے کچھ بے مایہ اور کوتاہ فکروں نے شبہات پیدا کئے ہیں ۔ [3] بعض لوگ اس روایت کو بطور سند پیش کرتے ہوئے کہتے کہ سیرت حضرت فاطمہ ہماری عورتوں اور لڑکیوں کے لئے نمونہ عمل نہیں ہوسکتی ۔ یہ روایت کسی حد تک قابل تحقیق ہے اور اس کی حقیقت کو جاننے کے لئے حدیث کی گہرائی اور سیرت حضرت زہرا کو سمجھنا ضروری ہے ۔   [1] وسائل الشیعہ ، ج۱۴، ص ۴۳،ص ۱۷۲؛ مکارم الاخلاق ، ص ۲۳۳، بحار الانوار، ج۴۳، ص ۵۴۔ [2]کشف الغمہ ، ج۲، ص ۲۳، ج۱،ص ۴۶۶، مکارم الاخلاق ، ص ۲۶۷، بحار الانوار ، ج۱۰۱، ص ۳۶، ج۱۰۰، ص ۲۳۸، ج۳۷، ص ۶۹، ج۴۳، ص ۸۴، مناقب ابن شہر آشوب ، ج۳، ص ۳۴۱ ، کنز العمال ، ج۸، ص ۳۱۵، ج۱۶، ص ۶۰۱، احقاق الحق ، ج۱۰، ص ۲۲۳، ۲۵۸، مجمع الزوائد ، ج۴، ص ۲۵۵، ج۹، ص ۲۰۲، فضائل الخمسہ ، ج۳، ص ۱۵۳، ۱۵۴؛ کوکب الدری ، ج۱، ص ۱۴۹، وسائل الشیعہ ، ج۱۴، ص ۴۳، کتاب الکبائر ، ص ۷۱، مناقب ابن مغازلی ، ص ۳۸۱۔ [3] بعنوان نمونہ توجہ فرمائیں ، عبد الکریم سروش کہتا ہے : میری نظر میں حضرت فاطمہ کا یہ کہنا : لا یرین احد و لا یراھن  اور ایک نابینا سے ان کا پردہ کرنا ہماری عورتوں کے لئے نمونہ عمل نہیں ہوسکتا ، ملہ زنان ، شمارہ ۵۹، دی ماہ ۷۸شمسی ۔

مزید

تمام نامحروموں سے پرہیز

  شہزادی نے حجاب و عفاف کی فضیلت کو مرضی الٰہی کی خاطر ایسا اپنا سرمائہ حیات بنایا کہ تمام نامحرم مردوں سے پردہ کرتیں یہاں تک کہ نابینا افراد سے بھی ۔ حضرت عکی کے گھر میں ایک نابینا شخص اجازت لے کر داخل ہوا شہزادی نے اپنے آپ کو دور کرلیا اور مکمل حجاب کیا ۔ رسول نے فرمایا: بیٹی یہ نابینا ہے ۔ شہزادی نے فرمایا: اگر وہ نابینا ہے تو میں تو دیکھ سکتی ہوں ۔ اور یہ اس وقت دیکھ نہیں سکتا مگر خوشبو تو محسوس کرسکتا ہے ۔ [1] اس وقت رسول نے قول فاطمہ کی تصدیق میں فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم میرے تن کا ٹکڑا ہو ۔ [2]   [1] بحار ، ج۴۳، ص ۹۱، ج۱۰۱، ص ۳۸۔ [2] المناقب ، ص ۳۸۰، حدیث ۴۲۸، مستدرک الوسائل ، ج۱۴، ص ۲۸۹۔

مزید

زہرا حجلہ گاہ حجاب میں

  کامل عفاف و حجاب خداوند عالم کی جانب سے تمام با ایمان خواتین کے لئے ہے : يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِكَ وَ بَنَاتِكَ وَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلبِيبِهِنَّ ذلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَ كَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيًما[1] عفاف و حجاب کا حکم نہ صرف یہ کہ معاشرے کی عفت کی حفاظت کے لئے ایک اجتماعی ضرورت ہے بلکہ عورت کی عفت و کرامت و شخصیت کی حفاظت کی بہترین راہ ہے اور رسول کے وجود کا ٹکڑا حیا و عفت و حجاب کا مکمل نمونہ ہے ۔ فاطمہ کے والد بزرگوار جو تمام سیاسی اور اجتماعی حوادث کے مرکز تھے آپ کے ان کے ساتھ ساتھ رہی جی ہاں ، زہرا ہر میزان میں باپ کے ساتھ تھیں چاہے بچپن میں مکہ کی طاقت فرسا زندگی اور شعب ابو طالب ہو چاہے ہجرت کے مدنی اور جنگی زندگی ہو چاہے علی کے گھر کی زندگی ہو یا اصحاب رسول کا اجتماع ، شہزادی ان مقامات پر تھیں مگر مکمل عفاف و حجاب کے ساتھ ۔ عفاف و حجاب زہرا کے سلسلے میں بہت ساری دیدنی و شنیدنی داستانیں بیان کی گئیں ہیں جو عورتوں کے لئے نمونہ عمل ہے ۔   [1] احزاب ۵۹

مزید
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات