تعلیمی و ثقافتی کمیٹی/ چہلم سے متعلقہ امور کا مرکزی دفتر

banner-img banner-img-en
logo

 دعا و زیارات

زیارت عاشورا

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اَباعَبْدِاللهِ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللهِ ، اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکَ یَا بْنَ اَمیرِالْمُؤْمِنین ، وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیّینَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا بْنَ فاطِمَهَ سَیِّدَهِ نِسٰاءِ الْعٰالَمینَ ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا ثارَاللهِ وَابْنَ ثارِەِ ، وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکَ وَعَلَى الْاَرْواحِ الَّتى حَلَّتْ بِفِنٰائِکَ ، عَلَیْکُمْ مِنّى جَمیعاً سَلاٰمُ اللهِ اَبَداً مٰا بَقیتُ وَبَقِىَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، یا اَباعَبْدِاللهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّهُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصیبَهُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلىٰ جَمیعِ اَهْل ِالْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصیبَتُکَ فِى السَّمٰوٰاتِ عَلىٰ جَمیعِ اَهْلِ السَّمٰوٰاتِ، فَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً اَسَّسَتْ اَسٰاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ ، وَ اَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتى رَتَّبَکُمُ اللهُ فیهٰا ، وَلَعَنَ اللهُ اُمَّهً قَتَلَتْکُمْ ، وَ لَعَنَ اللهُ الْمُمَهِّدینَ لَهُمْ بِالتَّمْکینِ مِنْ قِتالِکُم ، بَرِئْتُ اِلَى اللهِ وَاِلَیْکُمْ مِنْهُمْ ، وَ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَ اَتْباعِهِمْ وَ اَوْلِیٰائِهِمْ ، یا اَباعَبْدِاللهِ اِنّى سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ اِلى یَوْمِ الْقِیامَهِ،وَ لَعَنَ اللهُ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ،وَ لَعَنَ اللهُ بَنى اُمَیَّهَ قاطِبَهً وَلَعَنَ اللهُ ابْنَ مَرْجٰانَهَ ، وَ لَعَنَ اللهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللهُ شِمْراً ، وَ لَعَنَ اللهُ اُمَّهً اَسْرَجَتْ وَ اَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ ، بِاَبى اَنْتَ وَاُمّى ، لَقَدْ عَظُمَ مُصٰابى بِکَ ، فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذى اَکْرَمَ مَقامَکَ ، وَاَکْرَمَنى بِکَ اَنْ یَرْزُقَنى طَلَبَ ثارِکَ مَعَ اِمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ اَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ ، اَللّٰهُمَّ ٱجْعَلْنى عِنْدَکَ وَجیهاً بِالْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ فِى الدُّنْیا وَ الاْخِرَهِ ، یا اَبا عَبْدِاللهِ اِنّى اَتَقَرَّبُ اِلى اللهِ وَ اِلىٰ رَسُولِهِ ، وَاِلىٰ امیرِالْمُؤْمِنینَ وَ اِلىٰ فاطِمَهَ ، وَاِلَى الْحَسَنِ وَ اِلَیْکَ بِمُوالاتِکَ ، وَبِالْبَرائَهِ مِمَّنْ قاتَلَکَ وَ نَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ ، وَ بِالْبَرائَهِ مِمَّنْ اَسَّسَ اَسٰاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِعَلَیْکُمْ وَ اَبْرَءُ اِلَى اللّهِ وَ اِلى رَسُولِهِ ،مِمَّنْ اَسَسَّ اَسٰاسَ ذٰلِکَ وَبَنىٰ عَلَیْهِ بُنْیانَهُ وَجَرىٰ فى ظُلْمِهِ وَجَوْرِہِ عَلَیْکُمْ وَعَلىٰ اَشْیٰاعِکُمْ ،بَرِئْتُ اِلَى اللَّهِ وَ اِلَیْکُمْ مِنْهُمْ وَاَتَقَرَّبُ اِلَى اللهِ ثُمَّ اِلَیْکُمْ بِمُوٰالاتِکُمْ وَمُوالاهِ وَلِیِّکُمْ ، وَبِالْبَرائَهِ مِنْ اَعْدائِکُمْ وَ النّاصِبینَ لَکُمُ الْحَرْبَ وَبِالْبَر ائَهِ مِنْ اَشْیاعِهِمْ وَاَتْباعِهِمْ ، اِنّى سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ وَ وَلِىٌّ لِمَنْ والاکُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عادٰاکُمْ ، فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذى اَکْرَمَنى بِمَعْرِفَتِکُمْ وَ مَعْرِفَهِ اَوْلِیٰائِکُمْ ، وَرَزَقَنِى الْبَرائَهَ مِنْ اَعْدائِکُمْ ، اَنْ یَجْعَلَنى مَعَکُمْ فِى الدُّنْیا وَ الْاٰخِرَهِ ، وَاَنْ یُثَبِّتَ لى عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِى الدُّنْیا وَالاْخِرَهِ وَ اَسْئَلُهُ اَنْ یُبَلِّغَنِى الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللَّهِ، وَ اَنْ یَرْزُقَنى طَلَبَ ثاریکُم مَعَ اِمامٍ مَهْدیٍ هُدىً ظاهِرٍ ناطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْکُمْ ، وَ اَسْئَلُ اللهَ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّاْنِ الَّذى لَکُمْ عِنْدَەُ اَنْ یُعْطِیَنى بِمُصابى بِکُمْ ، اَفْضَلَ ما یُعْطى مُصاباً بِمُصیبَتِهِ،مُصیبَهً مٰا اَعْظَمَهٰا وَاَعْظَمَ رَزِیَّتَها فِى الْاِسْلامِ وَفى جَمیعِ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ، اَللّهُمَّ اجْعَلْنى فى مَقامى هٰذا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَهٌ وَمَغْفِرَهٌ ،اَللّهُمَّ اجْعَلْ مَحْیٰاىَ مَحْیٰا مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَ مَمٰاتى مَمٰاتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، اَللّهُمَّ اِنَّ هٰذا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِهِ بَنُو اُمَیَّهَ وَابْنُ آکِلَهِ الْاَکْبٰادِ اللَّعینُ ابْنُ اللَّعینِ ، عَلىٰ لِسٰانِکَ وَ لِسانِ نَبِیِّکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ، فى کُلِّ مَوْطِنٍ وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فیهِ نَبِیُّکَ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ ، اَللّهُمَّ الْعَنْ اَبا سُفْیانَ وَمُعٰوِیَهَ ،وَ یَزیدَ بْنَ مُعاوِیَهَ ، عَلَیْهِمْ مِنْکَ اللَّعْنَهُ اَبَدَ الاْبِدینَ، وَهٰذا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زیٰادٍ وَآلُ مَرْوانَ ، بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ صَلَواتُ اللهِ عَلَیْهِ،اَللّٰهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ [الاَْلیمَ] ، اَللّٰهُمَّ اِنّى اَتَقَرَّبُ اِلَیْکَ فى هٰذَالْیَوْمِ وَفى مَوْقِفى هٰذا وَ اَیّامِ حَیٰوتى بِالْبَراَّئَهِ مِنْهُمْ وَاللَّعْنَهِ عَلَیْهِمْ ، وَبِالْمُوالاتِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلامُ سو مرتبہ کہے: اَللّهُمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَآخِرَ تابِعٍ لَهُ عَلى ذلِکَ ، اَللّهُمَّ الْعَنِ الْعِصابَهَ الَّتى جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ ، وَشٰایَعَتْ وَبٰایَعَتْ وَتٰابَعَتْ عَلىٰ قَتْلِهِ ، اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمیعاً سو مرتبہ کہے: اَلسَّلٰامُ عَلَیْکَ یٰا اَبٰا عَبْدِ اللهِ ، وَعَلَى الْاَرْوٰاحِ الَّتى حَلَّتْ بِفِنٰائِکَ ، عَلَیْکَ مِنّى سَلامُ اللهِ اَبَداً ما بَقیتُ وَبَقِىَ اللَّیْلُ وَ النَّهٰارُ ، وَلا جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنّى لِزِیٰارَتِکُمْ ، اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَیْنِ ، وَعَلٰى عَلِىِّ بْنِ الْحُسَیْنِ ، وَعَلىٰ اَوْلادِ الْحُسَیْنِ ، وَعَلىٰ اَصْحٰابِ الْحُسَیْن پھر یہ کہے: اَللّٰهُمَّ خُصَّ اَنْتَ اَوَّلَ ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنّى وَابْدَاءْ بِهِ اَوَّلاً ،ثُمَّ الثّانِىَ وَالثّالِثَ وَالرّابِعَ اَللّهُمَّ الْعَنْ یَزیدَ خامِساً ، وَالْعَنْ عُبَیْدَ اللهِ بْنَ زِیٰادٍ وَابْنَ مَرْجٰانَهَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشِمْراً وَآلَ اَبى سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ اِلى یَوْمِ الْقِیمَهِ پھر سجدہ میں جاکر یہ پڑھے: اَللّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشّاکِرینَ لَکَ عَلٰى مُصابِهِمْ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى عَظیمِ رَزِیَّتى ، اَللّهُمَّ ارْزُقْنى شَفاعَهَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ ، وَثَبِّتْ لى قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَاَصْحابِ الْحُسَیْن ،ِ الَّذینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِ السَّلامُ. یارَبَّ الحُسَینِ ، بِحَقِّ الحُسَینِ ، اشفِ صَدرَالحُسَینِ ، بظُهورِالحُجَّه

مزید

ہر درد کی دوا

  72. خاک قبر امام حسین ؑ ہر بیماری کی دوا ہے جب بھی اسے کھانا چاہو تو کہو:بِسمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ اللَّهُمَّ اجعَلهُ رِزقاً وَاسِعاً وَ عِلماً نَافِعاً وَ شِفَاءً مِن كُلِّ دَاءٍ إِنَّكَ عَلى‏ كُلِّ شَي‏ءٍ قَدِيرٌبسم اللہ و باللہ خدایا اس کو رزق واسع اور نفع بخش علم اور ہر بیماری کے لئے شفا قرار دے کہ تو ہر شی پر قادر ہے [1]۔   [1]. باب 94، حدیث 1.

مزید

اپنے فرزندوں کو خاک شفا چٹاؤ

  71. حسین بن ابی علی راوی ہے کہ امام صادق ؑ کو فرماتے سنا کہ اپنے فرزندوں کو خاک شفا چٹاؤ کیونکہ یہ سبب امنیت و صحت و سلامتی ہے[1]  ۔   [1]. باب 92، حدیث 2.

مزید

یہاں دعا قبول ہوتی ہے

  70. ابو ہاشم جعفری راوی ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام نے بیماری کے عالم میں کسی کو میرے پاس اور محمد بن حمزہ کے پاس بھیجا ، محمد بن حمزہ مجھ سے پہلے امام کے پاس پہونچ گئے انہوں نے مجھ سے بتایا کہ امام کا اصرار ہے کہ میں کسی کو کربلا بھیجوں تاکہ وہ ان کے لئے دعا کرے۔  میں نے محمد سے کہا تم نے کیوں نہیں کہا کہ یہ کام میں انجام دوں گا؟ اس وقت میں امام کی خدمت میں پہونچا اورعرض کی آپ پر قربان جاؤں میں کربلا جاؤں گا۔ امام نے فرمایا: اپنا خیال رکھنا کوئی اس جانب متوجہ نہ ہو ابن حمزہ طرفدار زید بن علی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ اس موضوع سے آگاہ ہو۔ اس ملاقات کے بعد امام کے حکم کو علی بن بلال سے بتایا۔ انہوں نے کہا: امام کو کربلا سے کیا حاجت ہے وہ خود حائر اور کربلا ہیں ۔ میں چھاونی تک گیا اور دوبارہ امام کی خدمت میں پہونچا۔ آپ نے فرمایا:بیٹھ جاؤ۔ جب میں امام کے پاس سے واپس آنا چاہا تو میں نے دیکھا کہ میرا رہنا ان کے لئے اچھا ہے تو میں رکا رہا اور علی بن بلال کی باتوں کو امام سے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں اس سے کہاکہ رسول خانہ خدا کا طواف کرتے تھے اور حجر اسود کا بوسہ دیتے تھے جب کہ حرمت رسول ، حرمت مومن کعبہ سے بڑھ کر ہے نیز خدا نے اپنے رسول سے فرمایا کہ عرفہ میں وقوف کریں اور یقینا عرفہ ان جگہوں میں سے ہے جسے خدا چاہتا ہے اور خدا چاہتا ہے کہ ان مقامات پر اسے یاد کریں [1] ۔ میرا دل چاہتا ہے کہ مجھے وہاں یاد کیا جائے جہاں خدا دوست رکھتا ہے اور وہ حائر و کربلا ہے اور ان مقدس مقامات میں سے ایک ہے جہاں پر لطف الہی شامل ہے [2] ۔   [1]. یہ فرمان امام کا سورہ نور کی آیت ۳۶کی طرف اشارہ ہے : في‏ بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرفَعَ وَ يُذكَرَ فيهَا اسمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالغُدُوِّ وَ الآصالِ۔ [2]. باب 90، حدیث 1.

مزید

راز سربستہ

  69. امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ کے سر بستہ اسرار و راز میں سے یہ ہے کہ مسافرین چار جگہ اپنی نماز کو مکمل یا قصر پڑھ سکتے ہیں : حرم الہی مکہ ، حرم رسول خدا مدینہ ، حرم امیر المومنین کوفہ ، حرم امام حسین علیہ السلام کربلا [1]۔   [1]. باب 82، حدیث 5.

مزید

سلام بر حسین ؑ

  68. عامر بن جزاعہ راوی ہیں کہ امام صادق ؑ کو فرماتے سنا ہے کہ جب قبر امام حسین پر جاؤ تو کہو: السَّلَامُ عَلَيكَ يَا ابنَ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيكَ يَا أَبَا عَبدِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَن قَتَلَكَ وَ لَعَنَ اللَّهُ مَن بَلَغَهُ ذَلِكَ فَرَضِيَ بِهِ إِنَّا إِلَى اللَّهِ مِنهُم بَرِي‏ءٌ سلام ہو آپ پر اے ابا عبد اللہ ، لعنت ہو جس نے آپ کو شہید کیا لعنت ہو اس پر کہ جس تک آپ کی خبر شہادت پہونچی تو وہ اس پر راضی و خوشحال تھا ہم ایسے لوگوں سے تقرب الہی کے تحت بے زاری اور برائت کا اظہار کرتے ہیں [1]۔   [1]. باب 79، حدیث 12.

مزید

دور سے

  67. سدیر بن حکیم راوی ہیں کہ امام صادق ؑ نے مجھ سے فرمایا : اے سدید ہر جمعہ کو پانچ مرتبہ اور ہر دن ایک بار قبر حسین کی زیارت کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کیا : میں وہاں سے کافی فاصلہ پر ہوں ۔  آپ نے فرمایا:دور سے زیارت ہے؛اپنے گھر کی چھت پر جاؤ، دائیں بائیں دیکھو پھر قبر امام حسین ؑ کی جانب رخ کرکے کھڑے ہو اور کہو : تم پر سلام اے ابا عبد اللہ ، رحمت و برکات خدا اور تم پر سلام ہو ۔ اس زیارت کے ذریعہ ایک ذورہ کا اجر لکھا جائے گا (ذورہ ایک حج و عمرہ کو کہتے ) سدیر کہتے ہیں : دن میں ۲۰ مرتبہ میں امام حسین ؑ کی زیارت کرتا تھا[1]  ۔   [1]. باب 96، حدیث 2.

مزید

محروم نہ رہنا

  66. حنان بن سدیر راوی ہیں کہ امام باقر علیہ السلام کی بارگاہ میں تھا کہ ایک شخص آیا اس نے سلام کیا اور بیٹھ گیا ۔ امام نے فرمایا: کہاں کے رہنے والے ہو ؟ اس نے عرض کیا: اہل کوفہ ۔  آپ نے فرمایا: کیا تم ہر شب جمعہ قبر امام حسین ؑ کی زیارت کرتے ہو ؟ عرض کی : نہیں ۔ فرمایا:مہینہ میں ایک بار ۔ عرض کیا : نہیں ۔  فرمایا: کیا سال میں ایک مرتبہ ۔ عرض کیا : نہیں ۔ امام نے فرمایا: یقینا تم ہر خیر اور نیکی سے محروم ہوگئے ہو  [1]۔   [1]. باب 97، حدیث 5.

مزید

مبادا دور نہ رہنا

  65. امیر المومنین علی ؑ فرماتے ہیں کہ میرے ماں باپ حسین ؑ پر قربان ہوں جو کربلا میں شہید کئے جائیں گے ۔ خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ کربلا میں شہید کئے جائیں ، خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ صحرائی جانور بھی قبر حسین ؑ پر گردن جھکاتے ہیں اور گریہ کرتے ہیں ، لہٰذا خبردار تم ان سے منہ نہ موڑنا اور دوری نہ کرنا [1]۔   [1]. باب 97، حدیث 2.

مزید

ایمان کی کمی

  64. ابو بکر حزرمی راوی ہیں کہ میں نے امام صادق ؑ کو فرماتے سنا کہ: جو کوئی چاہتا ہے کہ وہ یہ جانے کہ وہ جنتی ہے کہ نہیں وہ ہماری محبت کو اپنے دل کو پیش کرے اگر اس نے قبول کیا تو وہ مومن ہے اور ہمارے محبوں کو چاہئے کہ مشتاق زیارت امام حسین ؑ رہے اور جو کوئی زائر امام حسین ؑ ہے اسے ہم اپنا محبوب جانتے ہیں اور وہ اہل بہشت میں سے ہوگا لیکن جو زائر قبر حسین ؑ نہیں ہے اس کا ایمان ناقص ہے اور اس میں کمی ہے  ۔

مزید
1
2
3
4
5
6
7
8
Arbaeentitr

 حدیثیں

 دعا و زیارات